نئی دہلی۔26 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) خانگی اسکولوں کی جانب سے وصول کی جانے والی من مانی فیس کو باقاعدہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آج راجیہ سبھا میں ارکان نے کہا کہ خانگی تعلیمی ادارے بے بس والدین کا استحصال کررہے ہیں۔ وقفہ صفر کے دوران مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے بی جے پی کے سہوت ملک نے کہا کہ بعض خانگی تاجر افراد بھی تعلیمی صنعت میں داخل ہوچکے ہیں اور یہ لوگ تعلیم کو ایک منفعت بخش تجارت میں تبدیل کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے بس والدین کا خون چوسنے والے یہ خانگی اسکولس بلڈنگ فیس کے نام پر سب سے پہلے والدین کو لوٹتے ہیں اور اس کے بعد انہیں اسکول سے ہی کتابیں اور یونیفارم خریدنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خانگی اسکولوں کی جانب سے جو فیس لی جاتی ہے اسے باقاعدہ کیا جانا چاہئے۔ سماج وادی پارٹی کے سریندر سنگھ ناگڑ نے کہا کہ اترپردیش میں اسکولوں میں 150 فیصد فیس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ مرکز کو چاہئے کہ وہ ایسے اسکولوں کے خلاف کارروائی کرے جو من مانی فیس وصول کرتے ہیں۔ 2018ء میں اترپردیش میں یہ قانون وضع کیا گیا تھا جس کے تحت پرائیویٹ اسکولوں پر کنٹرول کرنے کے لیے یہ قانون کافی تھا لیکن اسے روبہ عمل نہیں لایا گیا۔ مرکز کی جانب سے والدین کا استحصال کرنے والے اور طلبہ کے ساتھ زیادتی کرنے والے خانگی اسکولوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔
ایم ڈی ایم کے لیڈر وائیکو نے کہا کہ ٹاملناڈو میں ہائیڈروکاربن کی کھدوائی کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ کاربن سب سے زیادہ خطرنا اور جان لیوا ہے۔ کاویری تاس میں زرعی اراضی کو تباہ کرنے کا موجب بنے گا۔ ٹی ایم سی کے ڈولاسین نے بھی انڈین آرڈیننس فیکٹریز کو کارپوریٹ کمپنی میں تبدیل کرنے کی مخالفت کی۔