ہم نے طوفاں کو تباہی کا سبب سمجھا تھا
اب تو ساحل پہ بھی گرداب نظر آتے ہیں
وزیر اعظم نریندر مودی نے مرکزی حکومت کے سکریٹریز سے کہا ہے کہ وہ خانگی شعبہ کے اداروں اور کمپنیوں کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں کہ مینوفیکچرنگ شعبہ میں تیزی آئے اور یہاں ملازمتیں اور روزگار کے موقع فراہم کئے جاسکیں۔ عوامی اور خانگی شعبہ میں ملازمتوں کی فراہمی پر حکومت کی توجہ ہے ۔ کابینی سکریٹری راجیو گوبا نے یہ بات بتائی ۔ وزیر اعظم نے یہ ہدایت ایسے وقت میں دی ہے جبکہ ملک میںروزگار کی فراہمی ایک سنگین مسئلہ بن گئی ہے ۔ بیروزگاری عروج پر پہونچ گئی ہے ۔ ملک میں کروڑوں نوجوان بیروزگار ہیں۔ معاشی سست روی اور کورونا لاک ڈاون کی وجہ سے لاکھوںافراد اپنی ملازمتوں اور نوکریوں سے محروم ہوگئے ہیں۔ ان کا جینا مشکل ہوگیا ہے ۔ عام آدمی کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ ملازمتوں سے محرومی کے بعد مہنگائی کی وجہ سے بھی عوام پر مسلسل بوجھ عائد ہوتا جا رہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم اشیا پر ہر روز قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ اس کا اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑنے لگا ہے اور عوام خاموشی سے یہ بوجھ برداشت کرنے پر مجبور کردئے گئے ہیں۔ عوام کے سامنے بوجھ برداشت کرنے کے سواء کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے ۔ مرکزی حکومت خانگی شعبہ میں ملازمتوں کی فراہمی کیلئے اپنی جانب سے مدد فراہم کرنے کا تیقن دے رہی ہے جبکہ حکومت کو خود بھی اس معاملے میں سرگرم ہونے اور سرکاری محکمہ جات میں ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ اب تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ حکومت کی جانب سے ملازمتیں فراہم کرنے کی بجائے ملازمتوں میں کمی کی گئی ہے ۔ عوامی شعبہ کے کئی اداروں کو بند کردیا گیا ہے یا پھر انہیں خانگی شعبہ کے حوالے کردیا جا رہا ہے ۔ عوامی شعبہ کے ملازمین کو رضاکارانہ سبکدوشی کی اسکیمات دیتے ہوئے سرکاری ملازمتیں ختم کی جا رہی ہیں اور خانگی شعبہ پر اکتفاء کیا جا رہا ہے ۔ اس طرح سے ملازمتوں کا مسئلہ حل ہونے کی امید نہیں کی جاسکتی ۔
مختلف ذرائع سے جو اعداد و شمار پیش کئے جارہے ہیں ان کے بموجب مرکزی حکومت کے کئی اداروں میں لاکھوں ملازمتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ کئی شعبہ جات میں بے شمار جائیدادیں ایسی ہیں جن پر تقررات کئے جانے ہیں لیکن ان پر کوئی تقررات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں آوٹ سورسنگ کا ایک طریقہ اختیار کرتے ہوئے بھی سرکاری ملازمتوں کی تعداد کو کم سے کم کیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ کنٹراکٹ بنیادوں پر تقررات کرتے ہوئے بھی کام چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس طریقہ کار نے عوام کوسرکاری محکمہ جات میںملازمتوں کی امیدوں سے دور کردیا ہے ۔ خانگی شعبہ پر حکومت کی جانب سے جو انحصار کیا جا رہا ہے وہ ملک کی آبادی اور بیروزگاری کی شرح کے اعتبار سے ناکافی ہے ۔ خانگی شعبہ میں کروڑہا بیروزگار نوجوانوں کوروزگار فراہم نہیںکیا جاسکتا ۔ خود روزگار اسکیمات کے ذریعہ بھی مکمل بیروزگاری کا خاتمہ ممکن نہیںہے ۔ ایسے میں حکومت کو اپنے خزانہ کا منہ بھی کھولنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کی آمدنی خاطر خواہ ہے ۔ حکومت سرکاری محکمہ جات میں تقررات کی راہ نکال سکتی ہے ۔ جو جائیدادیں تقرر طلب ہیں ان کیلئے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بھرتیوں کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے ۔ اس طرح سے بیروزگاری کو ختم کرنے کیلئے خود حکومت کو بھی تقررات کا عمل شروع کرنے سے گریز نہیں کیا جانا چاہئے ۔
خانگی شعبہ کو سرگرم کرتے ہوئے وہاں بھی ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ حکومت کو اس معاملے میں بھی خانگی شعبہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ جس طرح مینو فیکچرنگ کے شعبہ پر توجہ دی جا رہی ہے اس میں بھی لاکھوں روزگار فراہم کئے جاسکتے ہیں۔ حکومت اور خانگی شعبہ دونوں ہی کو مشترکہ طور پر ایک منصوبہ اور حکمت عملی تیار کرتے ہوئے بیروزگار نوجوانوںکو ملازمتیں فراہم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔یہ حقیقت ہے کہ صرف حکومت ملازمتیں فراہم نہیں کرسکتی ۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف خانگی شعبہ پر بھی اکتفاء نہیں کیا جاسکتا ۔ ایسے میں دونوں کو مل کر نوکریوں کی فراہمی پر توجہ کرنی چاہئے تاکہ ملک میں بیروزگاری کی شرح کو کم سے کم کیا جاسکے ۔
