نئی حج پالیسی پر رہنمایانہ خطوط کے مطابق عمل کرنے کی ہدایت ، جناب مقصود احمد خان کا بیان
محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔11جون۔مرکزی حکومت کی نئی حج پالیسی کے مطابق ملک میں موجود تمام خانگی ٹور آپریٹرس کو حج کمیٹی کی قیمت میں عازمین حج لیجانے ہوں گے اور اس سلسلہ میں 10 ہزار عازمین کا کوٹہ خانگی ٹور آپریٹرس کے حوالہ بھی کیا جاچکا ہے۔حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ نئے رہنمایانہ خطوط کے مطابق جن خانگی ٹور آپریٹرس کو کوٹہ مختص کیا گیا ہے اس میں ایک حصہ حج کمیٹی کی جانب سے جو قیمت وصول کی جاتی ہے اس قیمت میں لیجانے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ریاست تلنگانہ حیدرآباد میں جن 12 خانگی ٹور آپریٹرس کو پہلے زمرے (اسٹار) میں 150نشستیں حوالہ کی گئی ہیں ان پر لازمی ہے کہ وہ ان 150 نشستوں میں 35 نشستوں پر حج کمیٹی کی قیمت میں عازمین کو حج بیت اللہ کی سہولت فراہم کریں جبکہ پہلے زمرہ میں آندھرا پردیش اورتلنگانہ کے جن 8خانگی ٹور آپریٹرس کو 106 عازمین کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے اور ان میں ہر خانگی ٹور آپریٹر پر لازمی کیا گیا ہے کہ وہ 27عازمین حج کو حج کمیٹی کی جانب سے وصول کئے جانے والے 2.5لاکھ کی قیمت میں حج بیت اللہ کیلئے لے جائیں۔ اسی طرح دوسرے زمرہ میں تلنگانہ و آندھرا پردیش کے جملہ 31 خانگی ٹور آپریٹرس کو 50 عازمین کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے اور اس میں 5یا6عازمین کو حج کمیٹی کی قیمت پر لیجانے کی ہر ٹور آپریٹر پر پابندی ہے لیکن قومی سطح پر ٹور آپریٹرس کی جانب سے مرکزی حکومت کے اس فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ ایسا کرنا ان کیلئے ممکن نہیں ہے۔ڈاکٹر مقصود احمد خان چیف ایکزیکیٹو آفیسر حج کمیٹی آف انڈیا نے بتایا کہ حکومت کی نئی پالیسی پر عمل آوری لازمی ہے اور ایسا نہ کرنے والے خانگی ٹور آپریٹرس کے حج کوٹہ کو منسوخ کردیا جائے گا۔ انہو ںنے بتایا کہ حج کمیٹی کی قیمت میں جن عازمین کو لیجانے کی ذمہ داری کے ساتھ کوٹہ حوالہ کیا گیا ہے اس کوٹہ کو اسی قیمت میں لیجانا لازمی ہے اور اگر کوئی اس سے اضافی قیمت وصول کرتا ہے اور تجارتی اغراض کیلئے اس کوٹہ کا استعمال کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ جناب مقصود احمد خان نے بتایا کہ جن خانگی ٹور آپریٹرس کو کوٹہ مختص کیا گیا ہے ان کے پاس حج کمیٹی کی قیمت میں سفر حج کا کوٹہ بھی موجود ہے اور وہ اس قیمت کے کوٹہ میں اپنے عازمین کا کا انتخاب خود کرسکتے ہیں اور ان کیلئے صرف قیمت اور سہولتوں کی فراہمی شرط ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اس بات کی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ ریاست تلنگانہ کے علاوہ مہاراشٹر میں اس کوٹہ میں تفویض کردہ عازمین کی نشستوں پر بھی تجارتی قیمت وصول کی جا رہی ہے اور اسی طرح بکنگ انجام دی جا رہی ہے ‘ انہو ںنے مزید بتایا کہ ریاست آندھرا پردیش اور آسام ایسی ریاستیں ہیں جہاں مرکزی حج کمیٹی کو عازمین نہیں ملے جس کے سبب کوٹہ واپس ہوا ہے ان ریاستوں میں خانگی ٹور آپریٹرس کی جانب سے حاصل کئے گئے عازمین کے کوٹہ پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ یہ بھی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ ریاست آسام اور آندھرا پردیش میں حاصل کئے گئے خانگی ٹور آپریٹرس کے کوٹہ کی ریاست تلنگانہ اور مہارشٹرا میں فروخت عمل میں آئی ہے جو کہ مرکزی وزارت اقلیتی امور کے حج امور کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ڈاکٹر مقصود احمد خان نے بتایا کہ خانگی ٹور آپریٹرس کی جانب یہ سہولت فراہم نہ کئے جانے کی صورت میں ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی اور انہیں مختص کردہ کوٹہ منسوخ کردیاجائے گا۔ انہو ںنے وضاحت کے ساتھ کہا کہ پہلے زمرہ (اسٹار) میں 150 نشستیں حاصل کرنے والے خانگی ٹور آپریٹرس کے پاس 35 نشستیں ایسی ہیں جن پر صرف اور صرف 2.5لاکھ روپئے ادا کرتے ہوئے حج بیت اللہ کیلئے روانہ کیا جانا ہے جبکہ 106نشستیں حاصل کرنے والے خانگی ٹور آپریٹرس کو 27 ایسی نشستیں فراہم کی گئی ہیں جن پر وہ 2.5لاکھ سے زائد قیمت وصول نہیں کرسکتے ۔ اسی طرح 50نشستیں رکھنے والے آپریٹرس کو 5-6 نشستیں حوالہ کی گئی ہیں۔ تینوں زمروں میں خانگی ٹور آپریٹرس پر لازمی ہے کہ وہ اپنے دیگر عازمین کی طرح انہیں بھی مکمل سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائیں۔
