آن لائن اطلاع نیوز نہیں ہوتی، سچائی جاننا ایک مشکل کام، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے میڈیا ایڈوائزر پنکج پچوری کا میڈیا ورکشاپ سے خطاب
دہرادون : پرکھ اور تصدیق کرنے کے بعد خبر کوشائع اور نشر کرنے کو صحت مند سماج کیلئے ضروری قرارد یتے ہوئے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے سابق میڈیا ایڈوائزر پنکج پچوری نے کہا کہ ایسا کرکے سماج کو گمراہی اورغلط راستے پر چلنے سے بچایاجاسکتا ہے ۔ یہ بات انہوں نے یونیسیف کی جانب سے ‘کریٹکل اپریزل اسکل’ (سی اے ایس)کے موضوع پرمنعقدہ میڈیا ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یچوری نے ‘آن لائن مس انفارمیشن’کے عنوان سے اپنا پرزنٹیشن پیش کرتے ہوئے کہا کہ سچائی جاننا ایک مشکل امر ہے اور آن لائن اطلاع کے تئیں محتاط، ہوشیار اور بیدار مغز ہونا چاہئے کیوں کہ آن لائن اطلاع نیوز نہیں ہے ۔ وہ صرف ایک اطلاع ہے اگر سچ بھی ہے تو اسے نیوز بننے میں وقت لگتا ہے ۔ اطلاع کو نیوزبنانے سے پہلے فیکٹ چیک کرنا چاہئے ، کوئی ثبوت ہے یا نہیں، اس وقت کون تھا، ذرائع کیا ہیں، اس اطلاع کو نیوز بنانے سے پہلے باوثوق ذرائع سے تصدیق کرنا لازمی ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ نیوز کیلئے کنٹسکٹ ضروری ہے ، اس کی تاریخ میں جانا ہوگا، غیر معمولی ہے یا نہیں اگر نارمل معاملہ ہے توپھر نیوز نہیں بنے گی۔ این ڈی ٹی وی کے سابق صحافی اور گو نیوز کے ایڈیٹرنے صحت کے بارے میں خبر نگاری کے سلسلے میں کہا کہ اس میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے ۔صحت کے بارے میں کوئی بھی غلط خبر کسی کی جان لے سکتی ہے ۔مثال کے طور پر کسی نے کسی دوا کے بارے میں کوئی خبر چلا دی جو نقصان دہ ہے تو یہ پورے سماج کیلئے گمراہی پھیلانے والی بات ہوگی۔اسی کے ساتھ انہوں نے کہاکہ پریس ریلیز کے بارے میں کہا کہ پریس ریلیز سے کوئی اچھی خبر نہیں بن سکتی ہے کیوں کہ اس میں یکطرفہ بات ہوتی ہے ۔ اس میں آزاد ذرائع نہیں ہے اور نہ ہی آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق کی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ فیک نیوز پھیلتی ہے اور اس کو پھیلانے میں جہاں بعض وزراء فلم اسٹار شامل ہوتے ہیں وہیں عام لوگ بھی ہوتے ہیں جو تصدیق کئے بغیر شیئر کرتے ہیں رہتے ہیں اور بعد میں اسے حذف کردیتے ہیں۔ کووڈ ورکنگ گروپ کے ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ آف ایمیونیشن کے چیرمین ڈاکٹر این کے اروڑہ نے ٹیکہ کاری مہم میں ہندوستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اس مہم کو اچھی طرح چلایا ہے۔
اوراسے اس مہم کو چلانے میں پولیو مہم سے کافی مدد ملی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اب تک دو بلین سے زائد ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کورونا کے بارے میں گمراہ کن اطلاعات کو دور کرنے میں میڈیا کے کردار کا ذکر تے ہوئے کہاکہ کورونا کو کنٹرول کرنے میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے صحت سے متعلق بہت ساری یونٹس بنائی گئی ہیں۔ امراجالا کے سابق ایگزی کیوٹیو ایڈیٹر سنجے ابھگیان نے کورونا کو صحت عامہ کا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس نے بتادیا کہ صحت عامہ کی کیا اہمیت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ صحت عامہ کا نظام اگر چست درست ہوتا تو اسپتالوں پر اس قدر بوجھ نہیں پڑتا۔ انہو ں نے کہا کہ صحافیوں کیلئے سی اے ایس ایک پیمانہ ہے جو ہیلتھ جنرنلزم کے تعلق سے آگاہ کرتا ہے کہ وہ صحیح معلومات عوام تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہاکہ صحت سے متعلق خبر کو جانچ پرکھ کر اس لئے بھی بنانے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس سے عام لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر گائتری سنگھ بچوں کی نشوونما کی ماہر یونیسیف نے کہاکہ نیوٹریشن صرف بچوں اور خواتین کی نشو و نما کیلئے ضروری نہیں ہے بلکہ قومی ترقی کے لئے ضروری ہے ۔ انہو ں مختلف اعداد و شمار کے حواکے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ نیوٹریشن بچوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور بچوں کی جان کو خطرہ ہوتا ہے ۔ یونیسیف کے طبی ماہر ڈاکٹر ویویک ویریندر سنگھ نے کہاکہ لوگوں کو صحت مند رکھنے کیلئے پرائمری طبی نظام کو درست کرنا ضروری ہے ۔ پروگرام کی نظامت یونیسیف کے کمیونی کیشن کے ہیڈ سونیا سرکار نے کی۔ اس کے علاوہ گروپ ڈسکشن بھی ہوئے اور گروپوں نے اپنے اپنے پرزنٹیشن بھی پیش کئے ۔ اس کے علاوہ نوبھارت ٹائمس کے سابق ایڈیٹر مدھویندر پرساد سنہا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔