موجودہ دور میں خدمت خلق کا جذبہ ہم سے کوسوں دور ہو گیا ہے۔ ہر خاندان میں لڑائی جھگڑے، تو تو میں میں زیادہ ہو گیا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو کاٹ کھانے آرہے ہیں۔ بھائی بھائی کی نہیں بن پا رہی ہے۔ بیٹا باپ سے دور ہو گیا ہے۔ بیٹی ماں سے الگ ہوگئی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ہم انسان نہیں جانور ہیں۔ جانوروں میں بھی اللہ تعالی نے ایک دوسرے کیلئے محبت پیدا کی ہے۔ہم ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ جھگڑے کے نقصانات میں سے ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اِس کی نحوست انسان کو بہت سی نعمتوں سے محروم کروادیتی ہے ۔ خاندانی جھگڑوں کا حل باہمی سمجھ بوجھ، صبر، معافی، اور مثبت رویئے میں ہے، جس میں غصہ چھوڑ کر مسکرانا، بات چیت احتیاط سے کرنا، اور دوسروں کو حقارت سے دیکھنے سے پرہیز کرنا شامل ہے، تاکہ دشمنی دوستی میں بدلے اور گھر امن کا گہوارہ بن سکے، اس کیلئے صبر اور اچھے اخلاق کی ضرورت ہوتی ہے ۔یاد رہے!لڑائی جھگڑے کے جہاں بہت سے دنیاوی نْقصانات ہیں، وہیں دِینی اِعتبار سے بھی یہ کئی محرومیوں کا باعِث بنتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی خدمت کو خالق کی خدمت قرار دیا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انسان سے کہے گا: اے ابن آدم! میں بیمار پڑا رہا لیکن تو نے میری عیادت نہیں کی۔ انسان کہے گا: تو سارے جہاں کا پروردگار ہے تو کب بیمار تھا اور میں تیری عیادت کیسے کرتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے لیکن اس کے باوجود تو اس کی مزاج پرسی کیلئے نہیں گیا۔ اگر تو اس کے پاس جاتا تو مجھے وہاں پاتا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے کھانا نہیں دیا۔ انسان عرض کرے گا: اے رب العالمین! تو کب بھوکا تھا اور میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے یاد نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا طلب کیا تھا لیکن تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا۔ اگر تو نے اس کا سوال پورا کیا ہوتا تو آج اس کا ثواب یہاں پاتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔ انسان عرض کرے گا: اے دونوں جہاں کے پروردگار! تو کب پیاسا تھا اور میں تجھے کیسے پانی پلاتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فلاں بندے نے تجھ سے پانی طلب کیا لیکن تو نے اس کی پیاس بجھانے سے انکار کردیا تھا اگر تو نے اس کی پیاس بجھائی ہوتی تو آج اس کا ثواب یہاں پاتا۔ اس حدیث سے یہ واضح ہوا کہ مخلوق کی خدمت کرنا اللہ تعالیٰ کی خدمت کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ جس طرح اللہ کی عبادت دین ہے اسی طرح بندوں کی خدمت بھی دین ہے۔ خدمتِ خلق کے ذریعے بندوں کے درمیان محبت و الفت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور باہمی قربت بڑھنے سے مسلمان ایک جسم کی مانند ہوجاتے ہیں۔ حاجت مندوں کی مدد کرنا اور مشکل حالات سے دو چار انسانوں کو سہارا دینا ایک مفید معاشرتی عمل ہے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے استطاعت عطا کی ہے، وہ لوگ غریب رشتہ داروں کی مدد کرنے کے بجائے اپنا پیسہ Trust اور یتیم خانوں میں صرف کر رہے ہیں۔ یہ تو اچھی بات ہے لیکن سب سے پہلے اس قرآنی آیت کو جان لیجئے جس میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے: ترجمہ: سب سے پہلا قریب کا رشتہ دار، بھائی، بہن، چاچا، تایا، خالہ، پھوپھی، وغیرہ … ! دوسرا پڑوسی جو ہمارے گھر کے محلے والے ہوتے ہیں، جن میں غریب بھی ہوتے ہیں جو کسی مجبوری کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ تیسرے غریب لوگ۔ گھروں میں کام کرنے والے نوکر ، یتیم خانوں اور مدرسوں میں پڑھنے والے غریب بچے اور سڑکوں پر زندگی بسر کرنے والے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم اس آیت اور اللہ کے حکم پر عمل کر رہے ہیں یا پھر یہ سمجھ رہے ہیں کہ فلاں ٹرسٹ یا فلاح یتیم خانوں میں اپنا پیسہ لگا کر جنت خرید لی۔ مومن بھائیو اور بہنو اپنے اس نظرئے کو بدلئے ذرا سوچئے کہ ہمارا سگا بھائی جو غریب ہے، اس کے گھر میں کئی دن سے چولہا نہیں جل رہا ہے اور اس کے بچے بھوک سے بلبلا رہے ہیں اور کئی دن سے فاقہ ہے اور ہم لوگ ہیں کہ اپنا پیسہ یتیم خانوں اور trust میں صرف کر رہے ہیں۔ یادرکھیے اللہ کے پاس اس کی پکڑ ہوگی اور اس قرآنی آیت کے مطابق سوال بھی ہوگا۔ ہم کل قیامت کے دن اس کا جواب دے پائیں گے؟ پھر ہم ایسے گناہ میں کیوں پڑ رہے ہیں؟ جب آپ کسی کی مدد کرنا چاہیں تو سب سے پہلے اپنے پیسوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیجئے۔ پہلا آپ کا قریبی رشتہ دار، دوسرا پڑوسی ، تیسرا غریب یتیم مستحق ۔ جب ہم یہ عمل اپنا ئیں گے تو ان شاء اللہ تعالیٰ کے پاس یہ عمل قابل قبول ہوگا۔ ہمیں لوگوں کے سامنے دکھاوا کرنا نہیں۔ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو پتا نہیں چلنا چاہیے۔ اس عمل کو اپنا ئیں گے تو ان شاء اللہ ہماری دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیںگے۔ آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم کو کہنے سننے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
