خرطوم : سوڈان میں ایک ہفتہ سے فوج کے دو گروپوں میں جاری لڑائی کے نتیجے میں دارالحکومت خرطوم اور دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر انارکی پھیل رہی ہے اور جگہ جگہ لوٹ مار کے واقعات سامنے آئے ہیں۔دوسری طرف پولیس کے امن وامان برقرار رکھنے میں ناکامی اور پولیس اہلکاروں کے منظر سے غائب ہونے پر عوام میں شدید غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔خیال رہے کہ سوڈان کی مسلح افواج کے دو گروپس سریع الحرکت فورسز اور جنرل عبدالفتاح البرھان کی زیرکمان فوج کے درمیان ایک ہفتے سے لڑائی جاری ہے۔شہری استفسار کرتے ہیں کہ انسانی حقوق کی پامالیوں اور لوٹ مار کے واقعات میں پولیس کہاں غائب ہوگئی ہے۔ خرطوم کے بازاروں اور لوگوں کے گھروں میں لوٹ مار کی اطلاعات ہیں جب کہ لوٹ مار کے واقعات کے ویڈیو مناظر سوشل میڈیا پر پھیل رہے ہیں۔سوشل میڈٰیا پر گذشتہ دنوں بہت سارے ویڈیو کلپس سامنے آئے ہیں جن میں چوری اور لوٹ مار کے واقعات دکھائے گئے ہیں۔ ایک طرف لوٹ مار کا بازار گرم ہے اور دوسری طرف فوج کے گروپس کے درمیان جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہریوں کا جانی نقصان ہوا ہے۔ اب تک تقریبا چھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔لوٹ مار کی کارروائیوں میں بازاروں، گوداموں، دکانوں اور گھروں میں کارروائیاں کی گئی ہیں۔ دارالحکومت خرطوم میں بین الاقوامی تنظیموں اور سفارتی مشنوں کے ہیڈ کوارٹرز کو بھی اس سے باہر نہیں رکھا تاہم ان چوریوں میں بنیادی طور پر بند دکانوں اور گھروں کو نشانہ بنایا گیا جن کے مالکان غیر حاضر تھے۔سوڈان میں سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے والے کلپس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح طاقت کے ذریعہ دکانوں کے تالے توڑے جاتے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتاہے کہ لوٹ مار کرنے والوں میں مبینہ طور پر فوجی اور سول کپڑوں میں ملبوس افراد شامل ہیں۔