زرعی مزدوروں کو 12 ہزار روپئے امداد کے ساتھ لائف انشورنس فراہم کیا جائے
کسانوں کو 24 گھنٹے مفت بجلی فراہم کرنا ضروری
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں خشک سالی سے نمٹنے کے لئے پیشگی اقدامات کرنے میں ریونت ریڈی حکومت بری طرح ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز پریس کانفرنس میں چیف منسٹر کی باتوں سے ان کی بے بسی ظاہر ہوئی۔ کویتا نے کہا کہ رواں سال جنوری ہی میں دنیا بھر میں ایل نینو کے خدشات سے متعلق انتباہات جاری کئے گئے تھے لیکن حکومت نے اس وقت سے ہی ضروری اقدامات کیوں نہیں کئے ؟ انہوں نے کہا کہ اگست میں بارش معمول سے 28 فیصد کم ہونے پر پڑوسی ریاستوں نے الرٹ جاری کرتے ہوئے خشک سالی سے متاثرہ منڈلوں کا اعلان کیا۔مرکز کو رپورٹس بھیجیں اور ضروری اقدامات کئے لیکن تلنگانہ میں ایسا نہیں کیا گیا جس کے باعث یہاں خشک سالی کی صورتحال دیگر ریاستوں سے زیادہ سنگین ہوگئی۔کویتا نے کہا کہ چھ ماہ گزرنے کے بعد اب کسانوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ فصلیں نہ بوئیں اور قربانی دیں جبکہ حکومت خود قربانی دینے کے بجائے کسانوں کی تنظیموں میں بھی اپنے لوگوں کو شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کویتا نے مطالبہ کیا کہ خشک سالی کے پیش نظر کانگریس نے انتخابات کے دوران زرعی مزدوروں سے 12 ہزار روپئے کی امداد کا جو وعدہ کیا تھا اسے فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ اسی لئے زرعی مزدوروں کو لائف انشورنس فراہم کرنا ضروری ہے۔کویتا نے الزام عائد کیا کہ حیدرآباد میں پینے کے پانی کی قلت کی وجہ صرف ایل نینو نہیں بلکہ کانگریس قائدین بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد حیدرآباد میں آٹھ ہزار تالاب غائب ہوگئے ، جس کے باعث زیر زمین پانی کی سطح متاثر ہوئی اور پانی کی قلت پیدا ہوئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حیدراکیا کر رہا ہے اور مطالبہ کیا کہ حیدرآباد کے تالابوں کی صورتحال پر رپورٹ جاری کی جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کے شعبے پر اپنے اختیار کی بات کرتی ہے ، لیکن خود ہی پاور پلانٹ کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کویتا نے مطالبہ کیا کہ اس کوشش کو فوری طور پر روکا جائے اور پاور میکس کمپنی کے ساتھ حکومت کے تعلقات اور معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی پہلے ہی بجلی کے بحران کے خدشات ظاہر کر چکی ہے۔ اگر نومبر کے آخر تک کسانوں کو 24 گھنٹے مفت بجلی فراہم نہیں کی گئی تو بورویل پر انحصار کرنے والے کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
انہوں نے چیف منسٹر کی جانب سے اب آل پارٹی وفد کو دہلی لے جانے کے اعلان پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ اقدام جنوری میں کیا جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ بی سی بل کے معاملے پر اس وقت آل پارٹی وفد دہلی کیوں نہیں لے جایا گیا؟ کویتا نے کہا کہ جب حکومت مشکلات میں گھرتی ہے تو اسے فنکار، فلمی شخصیات اور آل پارٹی وفد یاد آتے ہیں جبکہ ایک حقیقی حکمران کے پاس دور اندیشی ہونی چاہئے۔کویتا نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ نومبر کے آخر تک کسانوں کو مفت بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ اس معاملے پر مرکزی وزیر کشن ریڈی اور بنڈی سنجے سے بھی ملاقات کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے کسانوں سے فصلیں نہ بونے کو کہا ہے ، لیکن اس کے بدلے معاوضے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ کے سی آر کے فارم ہاؤس میں اسائنڈ اراضی سے متعلق سوال پر کویتا نے کہا کہ انہیں اس معاملے کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔