فرانسیسی صدر میکرون کی ٹرمپ کے بیان پر برہمی

   

پیرس سے متعلق ’مسلم شہر‘ کا دعویٰ احمقانہ ،ملک کے کشیدہ حالات کو سیاسی رنگ دینے کا الزام

پیرس، 22 اکتوبر (ایجنسیز) فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پیرس کے مستقبل کو مسلم شہر سے جوڑنے والے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے احمقانہ اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ میکرون نے الزام عائد کیا کہ فرانس میں جاری کشیدہ حالات کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن معلومات کے ذریعہ ملک کی صورتحال کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔فرانس کے مختلف شہروں میں احتجاج، آتشزنی اور لوٹ مار کی اطلاعات کے درمیان ٹرمپ نے فرانس کے حالات پر تبصرہ کیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پیرس جلد ہی ایک ’مسلم شہر‘ بن جائے گا اور وہاں مہاجرین، اسلام پسندوں اور کمیونسٹوں کا اثر بڑھ رہا ہے۔ ٹرمپ نے فرانس میں لوٹ مار اور عمارتوں کو آگ لگائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ میں ایسے حالات پیدا نہیں ہونے دیے جائیں گے۔میکرون نے چہارشنبہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرانس میں تشدد اور بدامنی کے حوالے سے بیرونی رہنماؤں کے تبصروں پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس کے بعض شہروں میں لوٹ مار کے واقعات کے بعد سوشل میڈیا اور بین الاقوامی سطح پر معلومات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق بعض غیر ملکی رہنماؤں نے بھی ایسی معلومات کی بنیاد پر بیانات دیے جو حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔جب ایک صحافی نے میکرون سے سوال کیا کہ آیا ان کی تنقید کا ہدف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہیں تو فرانسیسی صدر نے جواب دیا کہ ان کا اشارہ دیگر افراد کے ساتھ ٹرمپ کی جانب بھی ہے۔ میکرون نے واضح کیا کہ فرانس پر مہاجرین اور اسلام پسندوں کے قبضے یا حملے سے متعلق دعوے درست نہیں ہیں اور انہیں حقیقت کے طور پر پیش کرنا گمراہ کن ہے۔ فرانسیسی صدر نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کی گئی تصاویر کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق بعض تصاویر کو فرانس میں ہونے والے واقعات کے مناظر کے طور پر پیش کیا جارہا ہے حالانکہ ان میں دکھائے گئے واقعات حقیقت میں پیش نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تصاویر اور غلط معلومات عوام کے سامنے حالات کی غیر حقیقی تصویر پیش کر سکتی ہیں۔دوسری جانب فرانس کے وزیرخارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا کہ ان کا دفتر متعلقہ ممالک کو ضروری وضاحتیں فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ ان کے مطابق اس کا مقصد سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے، بے بنیاد دعووں کو فروغ دینے اور فرانس کے حالات سے متعلق غلط تاثر قائم کرنے کی کوششوں کا جواب دینا ہے۔