خلیجی ممالک کی سعودیہ کے حقِ دفاع کی حمایت، حوثی حملوں کی مذمت

   

منامہ۔ 19 اکتوبر(ایجنسیز) خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ نے سعودی عرب کی سرزمین پر حوثیوں کے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے مملکت کے حقِ دفاع کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ بحرین میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی 168ویں وزارتی کونسل کے اجلاس میں علاقائی صورتِ حال، یمن میں پیش رفت اور خلیج عرب اور بحیرہ احمر میں بحری آمد و رفت کی آزادی کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ نے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اس موقع پر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری راستوں کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی زیرِ بحث آئے۔خلیجی وزارتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے سعودی عرب کے ساتھ خلیجی ممالک کی یکجہتی کا اظہارکیا اورکہا کہ مملکت کے دفاع کے فطری حق کی حمایت کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مملکت سعودی عرب کے ساتھ متحد کھڑے ہیں اور اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ51 کے مطابق اس کے حقِ دفاع کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی سلامتی کا لازمی حصہ ہے، جبکہ خلیجی ممالک کا تحفظ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ بحرین کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں اور شہریوں، شہری تنصیبات اور ایرپورٹسکو دانستہ نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ ان کے مطابق، ان حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایرپورٹ پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ میں14 شہریوں کی موت ہوئی اور300 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ الزیانی نے کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون اور شہری ہوابازی سے متعلق شکاگو کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کا مقابلہ کرنے میں سعودی عرب کے ساتھ بحرین کے مضبوط موقف کا اعادہ بھی کیا۔خلیج تعاون کونسل کے سکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے بھی حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں انسانی زندگی کے تقدس، شہری تنصیبات کی سلامتی اور علاقائی امن و استحکام پر کشیدگی کے اثرات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہیں۔ جی سی سی ان حملوں کی سخت مذمت کرتی ہے۔