خواتین ریزرویشن کو حد بندی سے جوڑنا بدنیتی :چدمبرم

   

کرن رجیجو بالکل غلط ہیں‘سابق مرکزی وزیر نے راہول گاندھی کی حمایت کی

نئی دہلی ۔9؍اگست ( ایجنسیز ) کانگریس کے سینئر قائد پی چدمبرم نے اتوار کو ایوان قانون ساز میں خواتین کے ریزرویشن کے معاملے پر مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی کے درمیان جاری سیاسی تنازعہ میں راہول گاندھی کی حمایت کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین کے ریزرویشن کو مردم شماری اور حلقہ بندی کی مشق سے الگ کیا جائے۔ کل ایکس پر دونوں قائدین کے درمیان لفظی جنگ شروع ہوئی تھی۔ کرن رجیجو نے کہا تھا کہ خواتین کے ریزرویشن سے متعلق قانون 2034 کے عام انتخابات سے قبل نافذ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا تعلق 2026 کے بعد ہونے والی مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حلقہ بندی سے ہے۔ اس کے جواب میں راہول گاندھی نے کہا تھا کہ یہ قانون تین سال قبل متفقہ طور پر منظور کیا جا چکا ہے اور اسے بغیر کسی شرط کے نافذ کیا جانا چاہیے۔ کانگریس کے موقف کو دہراتے ہوئے پی چدمبرم نے خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی کو جوڑنے پر بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت پر ’’پوشیدہ ایجنڈے‘‘ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نیکہا کہ کرن رجیجو غلط ہیں۔ چدمبرم نے مزید کہا کہ ہم نے 2023 میں ہی اس جانب توجہ دلائی تھی لیکن حکومت اپنے پوشیدہ ایجنڈے کی وجہ سے بضد رہی۔ اس تعلق کو ختم کر دیا جائے تو خواتین کا ریزرویشن فوری طور پر اور 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے کافی پہلے بھی اسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ آئینی ترمیمی بل 17 اپریل کو لوک سبھا میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر پانے کے باعث منظور نہیں ہو سکا۔ اس آئینی ترمیمی بل میں قانون ساز اداروں اور لوک سبھا میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ حلقہ بندی کی تجویز بھی شامل تھی۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کرن رجیجو نے خواتین کے اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق راہل گاندھی کے بیان کے بعد کانگریس سے خواتین کے ریزرویشن بل کی غیر مشروط حمایت کرنے کا مطالبہ کیا۔ رجیجو نے ایکس پر لکھا تھاکہ راہول گاندھی جی کے رویے میں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہیاور امید ہے کہ کانگریس پارٹی خواتین کے ریزرویشن بل کی غیر مشروط حمایت کرے گی۔کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت کی ہے، تاہم انہوں نے حلقہ بندی کی مشق کی مخالفت کی ہے۔