خواتین سے متعلق نامناسب ریمارکس

   

ملک میں وقفہ وقفہ سے خواتین کے تعلق سے مختلف گوشوں سے نامناسب اور نازیبا ریارکس کا سلسلہ سا چل پڑا ہے ۔ کبھی کوئی خواتین کے لباس پر ریمارکس کردیتا ہے تو کبھی خواتین کو زیادہ بچے پیدا کرنے کے مشورید ئے جاتے ہیں۔ کبھی خواتین کو انتہائی نامناسب ڈھنگ سے پیش کیا جاتا ہے تو کبھی کوئی اور تبصرے کئے جاتے ہیں۔ اب ٹاملناڈو کی برسر اقتدار جماعت ڈی ایم کے کے رکن پارلیمنٹ دیاندھی مارن نے نامناسب تبصرہ کرتے ہوئے ایک تنازعہ پیدا کردیا ہے ۔ دیاندھی مارن نے طلباء میںانعامات تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شمالی ہند میں خواتین کو گھروں میں قید رکھا جاتا ہے اور انہیں بچے پیدا کرنے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ دیاندھی مارن کا کہنا تھا کہ جہاںشمالی ہند میں خواتین کو مناسب مواقع فراہم نہیں کئے جاتے وہیں ٹاملناڈو میں خواتین کو تعلیم اور دیگر شعبہ جات میں حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور انہیں با اختیار بنانے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے مختلف اقدامات کا تذکرہ کیا تاہم جہاں تک شمالی ہند کی خواتین کا سوال ہے اس تعلق سے ان کے ریمارکس پر تنازعہ پیدا ہوگیا ہے ۔ ان ریمارکس اور تبصروں پر شمالی ہند کی ریاستوں نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مذمت کی ہے اور کہا کہ سارے شمالی ہند کو نشانہ بناتے ہوئے یہ ریمارکس کئے گئے ہیں جو مناسب نہیں ہیں۔ سوشیل میڈیا پر بھی اس تعلق سے ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور سیاسی جماعتوں نے بھی اس کی مذمت کی ہے ۔ ہندوستان میں خواتین کے تعلق سے اس طرح کے ریمارکس عام ہونے لگے ہیں اور خاص طور پر سیاسی قائدین کی جانب سے وقتی جذبات کا شکار ہوکر ایسے ریمارکس کئے جارہے ہیں جو مہذب سماج کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتے ۔ سیاسی قائدین کو اپنی سیاست چمکانے کیلئے خواتین کے تعلق سے اس طرح کے ریمارکس سے گریز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہندوستان میں خواتین کی عزت و احترام پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور اس کی بہت اہمیت بھی ہے ۔ ملک کے کسی بھی حصے کے جذبات کو ٹھیس پہونچانے والے بیانات کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ۔
اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ سیاسی قائدین انتہائی نازک صورتحال میں بھی ایسے ریمارکس کربیٹھتے ہیں جن سے عوامی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ عصمت ریزی جیسے سنگین معاملات میں بھی سیاسی قائدین بالواسطہ طور پر خواتین کو ہی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے ۔ یہ تک کہہ دیتے ہیں کہ خواتین کے تنگ لباس کی وجہ سے ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔ کوئی خواتین اور طالبات کو جینس پہننے سے گریز کرنے کا مشورہ دیتا ہے تو کوئی کہتا ہے کہ خواتین کو مساوی حقوق دینے کی نفی کرتا ہے ۔ اس طرح کی ذہنیت کی موجودہ صورتحال میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے کیونکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ حالات اور ماحول بدل رہا ہے ۔ خواتین زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کرنے لگی ہیں۔ وہ مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کرنے لگی ہیں۔ شائد ہی کوئی شعبہ حیات ایسا ہو جہاں خواتین کی کارکردگی مثالی نہیں ہے ۔ تعلیم کے شبہ میں ہو یا تحقیق کے شعبہ میں تجارت کے شعبہ میں ہو یا پھر مسلح افواج میں بہادری سے دشمن کے چھکے چھڑانے کا معاملہ ہو ہندوستانی خواتین نے ہر شعبہ میں مثالی اور شاندار کارکردگی دکھائی ہے ۔ خود ہندوستانی سیاست میں بھی خواتین کے رول کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ کئی خواتین نے چیف منسٹر کی ذمہ داری بھی نبھائی ہے اورموثر ڈھنگ سے نبھائی ہے ۔ ایسے میں خواتین کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کرنا یا ان کے تعلق سے نامناسب ریمارکس اور تبصرے کرنا کسی کو بھی ذیب نہیںدیتا اور سبھی کو اس تعلق سے احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ ملک کے کچھ حصوں میں خواتین کو آج بھی برابر کے اور مساوی مواقع فراہم نہیں کئے جاتے اور ان کے تعلق سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے ۔ سیاسی جماعتیں اور قائدین عوامی زندگی کا حصہ ہیںایسے میں انہیں غیرشائستہ ریمارکس کی بجائے خواتین کی حالت کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہیں پھلنے پھولنے اور با اختیار بنانے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ سماج کی بہتری اور ترقی اس وقت تک ممکن نہیںہوسکتی جب تک خواتین کو بااختیار نہ بنایا جائے ۔ منفی ذہنیت کو ترک کرتے ہوئے مثبت سوچ و فکر کے ساتھ کام کرتے ہوئے ترقیاتی اسکیمات اور اقدامات پر توجہ دی جانی چاہئے ۔