نئی دہلی۔4 فروری (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت نے کانوں میں خواتین کی تقرری کرنے کی نوٹیفکیشن جاری کردی ہے جس کے بعد خواتین کو بھی کان کنی کاموں میں روزگار کے مواقع مہیاہوگئے ہیں۔ مزدوری اور روزگار کی مرکزی وزارت نے پیر کو یہاں بتایا کہ حکومت کے اس قدم سے خواتین کوبااختیار بنانے کو فروغ ملے گا اور ان کو کان کنی شعبہ میں روزگار کے یکساں مواقع مہیا ہوں گے ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کمپنیاں یا آجرکو کانوں میں خواتین ملازمین کو اجازت دے دی گئی ہے ۔خواتین کی تقرری کانوں کے اندر اور اوپر کی جاسکتی ہے ۔زمین کے اوپر خواتین کو شام سات بجے سے صبح چھ بجے تک بھی تعینات کیا جاسکتاہے ۔کانوں کے اندر خواتین کی تقرری صبح چھ بجے سے شام سات بجے تک ہی جاسکتی ہے ۔آجر کو خواتین کو تعینات کرنے سے پہلے سکیورٹی اور تحفظ کے اقدامات کرنے ہوں گے اور متعلقہ خاتون ملازم کی تحریری رضامندی لینی ہوگی۔خواتین کی تعیناتی کم از کم تین خواتین کے گروپ میں کی جائے گی۔ یہ نوٹیفکیشن کان کنی ایکٹ1952میں تبدیلی کے بعد جاری کی گئی ہے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق خواتین کی تعیناتی بغیر جوکھم والے کام اور شعبہ میں کی جائے گی۔
کان کے اندر خواتین کی تقرری غیر مستقل کام کے لئے کی جاسکتی ہے ۔اس میں تکنیکی،انتظامیہ اور نگرانی جیسے کام شامل ہیں۔خواتین کی کانوں میں تقرری متعلقہ سکیورٹی افسر کی اجازت پر منحصر کرے گی۔ لیبر اور روزگار کی وزارت کو خواتین کو کانوں میں تعینات کرنے کی اپیل مختلف خواتین ملازمین تنظیموں ،صنعتوں اور طلبہ سے موصول ہوئے تھی۔وزارت کان کنی نے بھی خواتین کو کان کنی شعبہ میں تعینات کرنے کی اجازت دینے کی اپیل کی تھی۔اس کے بعد لیبر اور روزگار وزارت نے اس اپیل پر غور کرنے کے لئے ایک کمیٹی کی تشکیل کی اور اس کی سفارشات کی بنیاد پر خواتین کو بھی کانوں میں تعینات کرنے کی اجازت دینے کافیصلہ کیا۔اس کے لئے وزارت داخلہ ،خواتین و اطفال کے فلاح و بہبود کی وزارت،وزارت کان کنی،کوئیلہ وزارت اور قدرتی گیس اور تیل کی وزارت سے اعلی سطح پر غور وخوض کیا۔