گزشتہ سال 43,774 لائسنس جاری
حیدرآباد۔ 17 فروری (سیاست نیوز) شہر میں ڈرائیونگ لینے والی خواتین اور لڑکیوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے۔ ورکنگ ویمنس کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ اسی طرح ٹووہیلرس اور کاروں کے لائسنس لینے والوں کا فیصد بڑھ رہا ہے۔ خواتین ڈرائیونگ اسکولس میں داخلہ لے کر کار چلانا سیکھ رہی ہیں تاکہ وہ دفاتر جاسکے اور بچوں کو اسکول چھوڑنے اور لانے میں کاریں استعمال کررہی ہیں جس کے نتیجہ میں خواتین کے ڈرائیونگ لائسنس کی اجرائی میں اضافہ ہورہا ہے۔ شہر میں یہ رجحان زور پکڑتا نظر آرہا ہے کہ مردوں پر انحصار کی بجائے خواتین خود گاڑیاں چلانے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اکثر دیکھا جارہا ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو اسکولس خود چھوڑنے اور لینے جارہی ہیں۔ کالجس و یونیورسٹیز کو نوجوان لڑکیاں خود ٹووہیلرس اور کار چلاکر پہنچ رہی ہیں ۔اس کیلئے ورکنگ ویمنس اور عام خواتین دفاتر ، مارکٹ، فنکشنس اور دیگر کاموں کیلئے خود گاڑیاں چلانے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ گزشتہ سال 43,774 خواتین نے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیا جبکہ اس سال جنوری کے اواخر تک 1,778 خواتین نے لائسنس حاصل کیا۔ شہر میں 400 سے زائد ڈرائیونگ اسکولس ہیں۔ اس کے علاوہ مزید 50 تا 60 ماروتی، ٹویوٹا جیسے ڈرائیونگ اسکولس دستیاب ہیں جس میں ہر بیاچ میں کم از کم 20 تا 35 خواتین کار چلانا سیکھ رہی ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میں 2019ء سے اب تک تقریباً 2 لاکھ سے زائد خواتین اور لڑکیوں نے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیا ، ان میں کار لائسنس کی اکثریت ہے ۔ 2