حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی ؒ وہ مردِ درویش تھے جنہوں نے ظلم و استبداد کے اندھیروں کو محبت، رواداری اور اخلاقِ حسنہ کے چراغوں سے روشن کیا، اور بگڑے ہوئے عقائد و اعمال کی اصلاح فرما کر انسانیت کو راہِ راست دکھائی۔آپؒ نجیب الطرفین سید تھے ۔ تاریخ نے آپ کو جن عظیم القابات سے یاد رکھا، اُن میں معین الدین، غریب نواز، سلطانُ الہند اور عطائے رسول خصوصیت کے ساتھ شامل ہیں۔تحصیلِ علم اور اکتسابِ فیض کے شوق نے آپؒ کو شام، بغداد، کرمان اور دیگر علمی و روحانی مراکز تک پہنچایا، جہاں آپؒ نے اکابرِ اولیا سے فیض حاصل کیا۔زیارتِ حرمین شریفین کے موقع پر بارگاہِ رسالت ﷺ سے آپ کو ولایتِ ہند عطا ہوئی اور اس سرزمین میں دینِ اسلام کی خدمت کا حکم ملا۔ چنانچہ آپ ؒنے ہندوستان کا رخ فرمایا اور اجمیر شریف کو اپنا مستقل مسکن بنا کر دعوت و تبلیغ کا وہ عظیم مشن شروع کیا جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔خواجہ غریب نواز ؒکی سب سے نمایاں ؒدینی خدمت یہ ہے کہ آپؒ نے اپنے بے مثال اخلاق، پاکیزہ کردار اور شیریں گفتار کے ذریعے اسلام کو لوگوں کے دلوں میں اُتار دیا۔ لاکھوں انسان آپؒ کی نگاہِ فیض سے مستفیض ہو کر کفر و ضلالت کی تاریکیوں سے نکل آئے اور اسلام کے نور میں داخل ہوئے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے جادوگر، جوگی، سادھو اور ظالم حکمراں بھی آپؒ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہو گئے۔ ہندوستان میں آپؒ کی آمد محض ایک شخصیت کی تشریف آوری نہ تھی بلکہ یہ ایک عظیم اسلامی، روحانی اور سماجی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ آپؒ ہی کے طفیل اس سرزمین میں سلسلۂ چشتیہ کا آغاز ہوا، جس نے محبت، اُخوت اور خدمتِ خلق کا پیغام ہر سمت پھیلایا۔خواجہ غریب نوازؒنے تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انیس الارواح، کشف الاسرار، گنج الاسرار اور دیوانِ معین جیسی کتب آپؒ کے علمی و روحانی مقام کی شاہد ہیں۔ تقریباً پینتالیس برس تک آپؒ نے سرزمینِ ہند میں دینِ اسلام کی بے لوث خدمت انجام دی اور ظلمت کدۂ ہند میں ایمان کا اجالا پھیلا دیا۔ ۶ رجب ۶۲۷ھ کو اجمیر شریف میں وصال ہوا، مگر آج بھی آپ ؒکا فیض جاری ہے۔ آج ہند میں ایمان و اسلام کی جو بہار نظر آتی ہے، اس کے پسِ منظر میں آپؒ کی وہ بے مثال سعی شامل ہے جس نے تاریخ کے سینے پر محبت، امن اور انسانیت کا لازوال نقش ثبت کر دیا۔
