مجاہد عالم خان اور محبوب عالم خان کو کلیدی ملزم بنایا گیا ۔ حملہ آوروں کو 15 لاکھ روپئے دئے گئے ۔ اسکارپیو گاڑی ضبط ۔ کمشنر پولیس وی سی سجنار کی پریس کانفرنس
حیدرآباد : /29 مئی (سیاست نیوز) شہر کے مشہور وکیل خواجہ معز الدین کے قتل کیس میں ملوث 7 ملزمین بشمول محبوب عالم خان ، مجاہد عالم خان اور دیگرکو نامپلی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے اور انہیں 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ۔ پولیس کمشنر حیدرآباد وی سی سجنار نے گرفتار ملزمین کو میڈیا کے روبرو پیش کرتے ہوئے اس کیس سے متعلق تمام تفصیلات کا انکشاف کیا ۔ انہوں نے کہا کہ /23 مئی کو ایڈوکیٹ خواجہ معز الدین کو تیز رفتاری سے کار چلاتے ہوئے ٹکر دیکر قتل کردیا تھا اور یہ منظر سی سی ٹی وی میں ریکارڈ ہوا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ شدید زخمی خواجہ معز الدین کو دواخانہ منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکے ۔ مقتول وکیل کے بیٹے این ایس فرحان کی شکایت پر پولیس نامپلی نے قتل کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا تھا ۔ وی سی سجنار نے کہا کہ سی سی ٹی وی کے ذریعہ ملزمین کی نشاندہی کی گئی اور بعد ازاں انہیں گرفتار کیا گیا ۔ کمشنر پولیس نے کہا کہ ملزمین محبوب عالم خان ، مجاہد عالم خان اور مقتول وکیل خواجہ معز الدین کے درمیان گزشتہ 10 سال سے وقف اراضیات جو ممتاز یارالدولہ کے تحت ملک پیٹ اور لکڑی کے پل پر موجود ہیں سے متعلق تنازعہ چل رہا تھا اور اس سلسلہ میں سیول ‘ فوجداری اور وقف ٹریبونل میں بھی مقدمات زیرالتواء ہے ۔ ملزمین کے افراد خاندان کو ایڈوکیٹ خواجہ معز الدین کی عدالتوں میں پیروی کے نتیجہ میں شکست اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑرہا تھا جس کے نتیجہ میں دونوں فریقین کے درمیان مخاصمت پیدا ہوگئی تھی ۔ ایڈوکیٹ کو قتل کرنے کیلئے مجاہد عالم خان عرف بابا اور ان کے والد محبوب عالم خان نے ایک منصوبہ بند طریقہ سے قتل کی سازش رچی جس کیلئے 15 لاکھ روپئے قاتلوں کو دیئے گئے اور قتل کی واردات انجام دینے کیلئے حسن علی عرف چاؤش اور منیر کو استعمال کیا گیا جنہوں نے کشن سنگھ عرف پپو کے ذریعہ یہ واردات انجام دی ۔ کشن سنگھ نے ونئے کے ذریعہ ابھیجیت اور وکرم کی مدد حاصل کی ۔ قتل میں استعمال کی جانے والی کار خریدنے کیلئے مجاہد عالم خان نے کشن کو دو لاکھ روپئے حوالے کئے تھے ۔ اسی طرح جنوری 2026 ء سے کشن عرف پپو ، ونئے ، ابھجیت عرف نانی ، وکرم عرف چنٹو اور ایک روڈی شیٹر دین دیال خواجہ معز الدین کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے لگے اور /23 مئی کو جب ایڈوکیٹ تیراکی کیلئے نظام کلب جانے کیلئے اپنی کار میں بیٹھنے والے تھے کہ وہاں پر پہلے سے ہی موجود ملزمین بالخصوص ابھیجیت عرف نانی نے تیز رفتاری سے کار چلاتے ہوئے انہیں ٹکر دے دی اور وہاں سے فرار ہوگئے ۔ کمشنر پولیس نے کہا کہ ابتداء میں سی سی ٹی وی کے ذریعہ ملزمین کی نشاندہی کرلی گئی اور ان کا پتہ سکندرآباد کے پنچاوتی لاج اور نارائن گوڑہ کی محفل ہوٹل کے پاس لگایا گیا ۔ اس کیس کے ملزم ڈی ونئے نے ایڈوکیٹ کا قتل کرنے کیلئے ابھیجیت کی مدد حاصل کی تھی اور اسے رقم فراہم کی ۔ جبکہ وکرم آدتیہ نے ونئے اور ابھیجیت کا قتل کے وقت ساتھ دیا ۔ منیدیپ عرف پوگو نانی نے بھی قتل میں استعمال کی گئی گاڑی میں سوار ہوکر دیگر ملزمین کی مدد کی اور یہ ملزم سابق میں بھی کئی وارداتوں میں ملوث بتائے گئے ہیں ۔ پولیس کمشنر نے کہا کہ اس کیس سے جڑے تمام ملزمین کی کڑی کو جوڑنے کیلئے عصری ٹکنالوجی کا استعمال کیا گیا ۔ میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں کمشنر پولیس سجنار نے کہا کہ اس کیس کی تحقیقات میں کوئی سیاسی اثر و رسوخ کا عمل دخل نہیں رہا اور تفصیلی تحقیقات کیلئے ملزمین کو عنقریب پولیس تحویل میں لیا جائے گا ۔ ب y/