خود کو خوبصورت سمجھیں

   

’’حسن، دیکھنے والی آنکھ میں ہوتا ہے۔‘‘ یہ حکایت بھی اپنی جگہ درست سہی، لیکن دورِ حاضر میں یہ فلسفہ تھوڑا بدل گیا ہے۔آج اگر آپ خود کو خوبصورت مانتے ہیں، تو در حقیقت آپ خوبصورت ہیں۔مطلب، اب خود کو دوسروں سے منوانے، تسلیم کروانے سے پہلے، اپنے آپ سے تسلیم کروانا کہیں ضروری ہے اور شاید اسی لئے آج کل ’’سیلف گرومنگ‘‘ پر بے حد توجہ اور زور ہے۔ فی زمانہ، بلکہ ازل ہی سے ’’بے عیب حْسن‘‘ کا تو تصور بھی محال ہے، ہاں البتہ کمیوں، خامیوں کو سدھارنے، سنوارنے اور اجالنے کی سعی ضرور کی جا سکتی ہے۔اب خواہ وہ باطنی عیوب پر ظاہری خواص کی ملمع کاری کی شکل میں ہو یا باہر کے اندھیارے کو، اندر کے اْجیارے سے جلا بخشنے کی صورت۔ بہرِ کیف، خوش خیالی و خوش خصالی سے آغاز ہونے والے سفر کی، خوش اندامی و خوشنمائی کی منزل تک رسائی خود آرائی و خود اعتمادی کا زینہ چڑھے بغیر ممکن نہیں۔ وہ کسی نے کہا تھا ناں کہ ’’ہر طرح کی آرائش و زیبائش، زیب و زینت اعتماد اور خوشی جیسے پہناووں، گہنوں کے آگے مات ہے۔‘‘ تو بات تو بالکل سچ ہے، لہٰذا سب سے پہلے تو ہمارے لئے اپنے ہونے اور ہزاروں لاکھوں سے بہتر و افضل ہونے کے اعتماد سے مالا مال ہونا ناگزیر ہے اور پھر اس اعتماد کی قلب و ذہن اور روح تک گہری، اْجلی تاثیر سے خوب لطف اندوز ہونا بھی۔ تب ہی ہم، خصوصاً خواتین اپنی زندگیوں میں مظلومین کے کرداروں سے نکل کے ہیروئنز کے کرداروں میں ڈھلیں گی۔سطحی تصورات و خیالات سے کسی شہزادی، ملکہ کی سوچ تک کا سفر طے ہو گا۔ دراصل لڑکیوں کی کثیر تعداد چاہتی ہے کہ وہ خوبصورت اور پْرکشش دکھائی دیں مگر وہ اس کیلئے کیا کریں، یہ ہر لڑکی نہیں جانتی۔اپنی شخصیت کو نکھارنا ’’سیلف گرومنگ‘‘ کہلاتا ہے۔ اسی مقصد کیلئے خواتین پارلر کا رْخ کرتی ہیں لیکن پارلر جانے کیلئے بھی خاص مواقعوں اور رقم کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جبکہ ’’سیلف گرومنگ‘‘ کا مقصد ہے کہ ہر حال میں آپ کی شخصیت کا نمایاں ہو اور آپ اپنی کوتاہیوں پر قابو پانا سیکھیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ دورانِ تعلیم لڑکیاں اپنی تعلیم میں مصروف رہتی ہیں اور اپنی شخصیت کو نظر انداز کر دیتی ہیں، اسی طرح گھریلو خواتین گھر کے کاموں میں اپنی شخصیت پر توجہ نہیں دیتیں اور جب کسی فنکشن یا تقریب میں جانا ہو تو بیوٹی پارلرز کا رْخ کرتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ دیگر مصروفیات کے ساتھ ساتھ اپنی شخصیت کے نکھار پر توجہ دیں اور جائزہ لیں کہ آپ شخصیت میں ظاہری طور پر کیا کمی ہے، جسے دور کر کے آپ پْرکشش اور جاذب نظر بن سکتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ اپنی جلد کی حفاظت کریں۔گھر میں رہتے ہوئے بھی اپنی اسکن پر کوئی لوشن یا کریم ضرور لگائیں، اسی طرح آفس، کالج یا یونیورسٹی جاتے ہوئے آپ ہلکا پھلکا میک اپ ضرور کریں۔ اس کے علاوہ اپنی جلد کی تازگی کو برقرار رکھنے کیلئے جوسز استعمال کریں، پانی زیادہ پئیں، اگر آپ کا جسم موٹاپے کا شکار ہونے لگے تو فوراً واک شروع کریں۔اپنی شخصیت اور قد کاٹھ کے مطابق کپڑوں کا انتخاب کریں جو آپ کی شخصیت خوبرو بنا دے، اپنے بالوں پر بھی خاص توجہ دیں تاکہ آپ کے بال مضبوط اورچمکتے نظر آئیں۔اپنے آپ کو خوبصورت بنانے کیلئے اپنی ’’سیلف گرومنگ‘‘ پر توجہ دیں۔اوپر کی سطور میں جو تحریر کیا گیا ہے کہ حسن دیکھنے والی آنکھ میں ہوتا ہے، یہ سب کرشمہ خود کو خوبصورت سمجھنے سے ہی رونما ہوتا ہے ۔ احساس کمتری کو اپنے پاس بالکل آنے نہ دیں اور اگر ممکن ہو تو احساس برتری بھی نہ جتائیں کیونکہ ایسا کرنے سے آپ کے حسن کو لوگ حسد کی نظر سے دیکھنے لگیں گے جو فطری طور پر آپ کی جلد کو متاثر کرے گا اور یہی چیز آپ کی ساری کوششوں کو پانی میں ملادیگی ۔ سیلف گرومنگ میں آپ خود اپنے حسن کو نکھارنے والی بنیں ۔ زیادہ تر لوگ باہم مشورے بھی کرتے ہیں لیکن آپ کو بالآخر وہی کرنا ہے جو آپ چاہتی ہیں ۔ آیئے ! ہم آج یہ عزم کریں کہ حسن کو دوبالا کرنے میں آپ رول اچھی طرح نبھاتے ہوئے دوسروں کو بھی Inspire کریں گی ۔