درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینیؒ کی موقوفہ اراضی کا گزٹ کالعدم

   

تلنگانہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ، ریاستی وقف بورڈ کی عدم کارکردگی اور محکمہ اقلیتی بہبود کی لاپرواہی آشکار
حیدرآباد۔4مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی عدم کارکردگی اور محکمہ اقلیتی بہبود کی لاپرواہی کے نتیجہ میں ریاست میں کروڑہا روپئے کی اوقافی جائیدادیں تباہ ہونے لگی ہیں۔ درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی ؒ کی ہزاروں کروڑ مالیاتی اراضی سے متعلق تلنگانہ ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ صادر کرتے ہوئے موضع کونگرا خرد میں موجود سینکڑوں ایکڑ موقوفہ اراضی کے ’گزٹ‘ کو کالعدم قرار دیا ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمہ رٹ درخواست نمبر 15211/2026 کی سماعت کے بعد جسٹس وجئے سین ریڈی نے درگاہ حضرت سید شاہ راجوقتال حسینی ؒکی موقوفہ اراضی کو ممنوعہ جائیدادوں کی فہرست سے خارج کردیا اور اس موقوفہ جائیداد سے متعلق ’’گزٹ‘‘ کو کالعدم قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق موضع ’کونگراخرد‘ میں موجود موقوفہ اراضی جس پر قبضہ جات کے علاوہ کئی غیر قانونی وینچرس فروخت کئے جا رہے ہیں اور ان لے آؤٹس کی منظوری کے لئے منظم سازش کے ذریعہ وینچر مالکین ایچ ایم ڈی اے سے رجوع ہوتے ہوئے وقف بورڈ کے حکام سے تال میل کے ذریعہ اپنے وینچرس کے لئے منظوری حاصل کر رہے ہیں۔ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں حکومت آندھراپردیش سے وقف بورڈ نے درگاہ حضرت شاہ راجوقتال حسینی ؒ کی جملہ اراضی حاصل کی تھی اور اس سلسلہ میں ریاستی حکومت نے 8 فروری 2007کو گزٹ کی اجرائی کے ذریعہ اس کروڑہا روپئے مالیاتی موقوفہ اراضی کے تحفظ کو یقینی بنایا تھا ۔ حکومت ہند کی جانب سے وقف قوانین میں ترمیم کے بعد UMEED پورٹل پر کئے جانے والے اندراجات میں بھی اس اراضی کو وقف بورڈ کی جانب سے درج کرنے کے اقدامات کئے گئے لیکن تلنگانہ ہائی کورٹ میں مؤثر پیروی نہ کئے جانے کے سبب درگاہ حضرت سید شاہ راجو قتال حسینی ؒ کے تحت موجود موقوفہ اراضی سے متعلق گزٹ کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے اس انتہائی قیمتی اراضی سے متعلق مقدمہ میں کسی بھی طرح کی پیروی نہ کئے جانے کے نتیجہ میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے سابق میں دیئے گئے ’گزٹ‘ کو کالعدم قرار دینے کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس قیمتی موقوفہ جائیداد جس کی قیمت ہزاروں کروڑ کی ہوچکی ہے اسے ’’ممنوعہ ‘‘ جائیدادوں کی فہرست سے خارج کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ پیشرو بی آر ایس حکومت نے تلنگانہ میں روشناس کروائے گئے ’دھرانی پورٹل‘ میں درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی ؒ کے تحت موجود اس اراضی کو 22A کے تحت ممنوعہ جائیدادوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے گزٹ میں موجود سروے نمبرات پر کسی بھی طرح کے رجسٹریشن اور جائیداد کی منتقلی پر مکمل امتناع عائد کردیا تھا جبکہ مذکورہ جائیدادپر کی جانے والی پلاٹنگ کے لئے کئی سرکردہ کمپنیوں کی جانب سے لے آؤٹ تیار کرتے ہوئے موقوفہ جائیدادوں کو فروخت کیا جانے لگا ہے ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے یکم،مئی جو جاری کئے گئے ان احکامات سے تلنگانہ وقف بورڈ کے بیشتر ذمہ دار واقف بھی نہیں ہیںکیونکہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں جاری کئی مقدمات میں سی ای او وقف بورڈ یا بورڈ کی جانب سے کوئی جواب داخل نہ کئے جانے کے نتیجہ میں مخالف وقف بورڈ فیصلہ سنائے جا رہے ہیں اور وقف بورڈ کے ذمہ داروں کو اس با ت کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ کے تحت موجود کروڑہا روپئے مالیتی جائیدادیں حکومت ‘ محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ کی لاپرواہی اور نااہلی کے سبب تباہ ہونے لگی ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبو دکے بعض عہدیداروں نے الزام عائد کیا ہے کہ جان بوجھ کر اس طرح کے مقدمات میں پیروی نہ کرتے ہوئے درخواست گذاروں کے حق میں عدالت کے فیصلوں کی راہ ہموار کی جا رہی ہے کیونکہ کئی جائیدادوں سے متعلق ’گزٹ‘ کو کالعدم قرار دیئے جانے کے باوجود وقف بورڈ یا محکمہ اقلیتی بہبود اپنی لیگل ٹیم کو مستحکم کرتے ہوئے جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کے بجائے تساہلی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔3