وقف بورڈ کے شعبہ اور اسٹینڈنگ کونسل کی خدمات کے مثبت نتائج
حیدرآباد۔30۔ستمبر۔(سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ وچیف اکزیکٹیو آفیسر بورڈ کی جانب سے وقف بورڈ کے شعبہ قانون اور وکلاء جو اسٹینڈنگ کونسل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں کے اجلاس کے نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں درگاہ حضرت میر مومن چپؒ کے تحت موجود 300 ایکڑ سے زائد اراضی کے معاملہ میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے آج مقدمہ کی سماعت کے دوران تمام رجسٹریشن کو روکنے اور کسی بھی طرح کی جائیداد کی منتقلی پر امتناع عائد کرنے کے احکام جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر سابق میں بھی کسی وقف جائیداد پر کوئی ادعا کرتے ہوئے رجسٹریشن کروائے گئے ہیں تو وہ بھی ناقابل قبول تصور کئے جائیں گے۔ جسٹس ناگیش بھیماپاکا نے تلنگانہ وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل جناب سید نجم الحسن باقری اور جناب سید علی جعفری کے دلائل کی سماعت کے بعد مذکورہ موقوفہ اراضی سے متعلق تمام مقدمات کو یکجا کرتے ہوئے پیش کرنے کی ہدایت دی او رمحکمہ مال اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کو ہدایت دی کہ درگاہ کے تحت موجود اراضیات پر کسی بھی طرح کے رجسٹریشن نہ کئے جائیں ۔ مذکورہ درگاہ کے گزٹ کو چیالنج کرتے ہوئے عدالت کو یہ باور کروایا جاتا رہا تھا کہ عدالت نے ’’گزٹ‘‘ کو کالعدم قرار دیا ہے لیکن درحقیقت گزٹ برقرار ہے اور مذکورہ گزٹ میں سیرئیل نمبر 2748پر درگاہ حضرت میر مومن چپؒ کے تحت موجود زائد از 300 ایکڑ اراضی کا واضح تذکرہ موجود ہے ۔ عدالت نے وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل کے استدلال کی سماعت کے بعد بورڈ کو تفصیلی جواب داخل کرنے کی مہلت دینے سے اتفاق کرتے ہوئے تاحکم ثانی مذکورہ وقف جائیداد پر کسی بھی طرح کے رجسٹریشن اور تیسرے فریق کو استحقاق فراہم کرنے والے دستاویزات پر روک لگادی۔ جسٹس ناگیش بھیماپاکا نے 1989 کے گزٹ کو قابل قبول اور قانونی اعلامیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزٹ میں درج کسی بھی اوقافی جائیداد کو اس وقت تک فروخت یا منتقل نہیں کیا جاسکتا جب تک گزٹ سے اوقافی جائیداد کو حذف نہیں کیا جاتا ۔ اس مقدمہ کے علاوہ آج وقف بورڈ کو دیگر مقدمات میں بھی کامیابی حاصل ہوئی اور وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل اور وکلاء کے علاوہ شعبہ قانون کو متحرک محسوس کرتے ہوئے ’’کونگراخرد‘‘ کی موقوفہ اراضی جو کہ درگاہ حضرت سید شاہ راجو قتال حسینی ؒ کے تحت ہے کے متعلق قابضین کی جانب سے داخل کی گئی درخواستوں پر قابضین کے وکلاء نے عدالت سے وقت طلب کرتے ہوئے مقدمہ کی سماعت ملتوی کرنے کی خواہش کی ۔ ذرائع کے مطابق تلنگانہ وقف بورڈ کے شعبہ قانون اور وکلاء کے حرکت میں آنے اور بورڈ کی جانب سے داخل کئے جانے والے جواب بروقت موصول ہونے کی بنیاد پر عدالت میں تلنگانہ وقف بورڈ کو ابتدائی کامیابی حاصل ہونے لگی ہے اگر تلنگانہ وقف بورڈ اسی طرح متحرک رہتے ہوئے شعبہ قانون کے ذمہ داروں کو متحرک رکھتا ہے اور اسٹینڈنگ کونسل کو مقدمہ کی سماعت سے قبل درکار مواد فراہم کرنے لگتا ہے تو ایسی صورت میں وقف بورڈ کے پاس موجود دستاویزات کی بنیاد پر عدالت میں کامیابی حاصل کرنا بورڈ کے لئے آسان ہوجائے گا اور لاکھوں کروڑ کی جائیدادیں جو کہ ناجائز قابضین کے زیر تصرف ہیں انہیں واپس حاصل کیا جاسکتا ہے ۔3/m/b