دشمنی جم کر کرو پر اتنی گنجائش رہے
جب کبھی پھر دوست بن جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
جب کبھی شمالی ہند اور شمال مشرق کی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوتے ہیں بی جے پی کو در اندازی کا مسئلہ یاد آجاتا ہے ۔ چاہے جہاں کہیں انتخابات ہوں بی جے پی ترقیاتی اور عوامی مفاد کے حامل مسائل کو فراموش کر بیٹھتی ہے اور عوام کو در اندازی کے مسائل میں الجھا کر اپنے مفادات کی تکمیل کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ پہلے رام مندر کے مسئلہ پر چناو لڑے جاتے تھے ۔ پھر ہندو ۔ مسلم راست کردیا گیا ۔ پھر قبرستان ۔ شمشان کے مسائل خود وزیر اعظم نریندر مودی نے اٹھائے ۔ پھر بنگا ل میں بی جے پی کے قومی صدر کی جانب سے نماز ۔ پوجا کے مسائل کو ہوا دی جا رہی ہے تو ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے بنگال ہو یا آسام ہو در اندازی کے مسائل اٹھائے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ صرف در اندازی کو روکنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ تمام در اندازوں کو ملک سے نکال باہر کرنے کی ضرورت ہے ۔ بہار میں بھی بی جے پی نے در اندازی کا مسئلہ اٹھایا تھا اور انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ اب ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان میں بنگال اور آسام کو بہت اہمیت حاص ہے اور ان ہی ریاستوں میں در اندازی کے مسائل اٹھائے جا رہے ہیں۔ در اندازی اگر واقعی کوئی بڑا مسئلہ ہے جس طرح سے بی جے پی بیان کرتی ہے تو اس کی ذمہ داری بھی بی جے پی پر ہی عائد ہوتی ہے ۔ مرکز میں گذشتہ 12 سال سے بی جے پی اقتدار میں ہے ۔ ملک کی سرحدات کی حفاظت کرنا مرکزی حکومت اور وزارت داخلہ کا کام ہے جس کا قلمدان امیت شاہ سنبھالتے ہیں۔ اگر ملک میں در اندازی ہو رہی ہے تو پھر بی جے پی حکومت کیوں سرحدات کے تحفظ میں ناکام ثابت ہوئی ہے ۔ بی جے پی کو اس کا جواب دینے کی ضرورت ہے ۔ خاص طور پر وزیر داخلہ امیت شاہ کو اس تعلق سے وضاحت کرنی چاہئے کہ ان کی وزارت کیوں ملک کی سرحدات کو محفوظ بنانے میں ناکام ہے اور کس طرح سے در انداز ملک میں گھس آنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ ان سوالات کا جواب دینے کی بجائے بی جے پی خود ہی در اندازی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے اپنی ناکامی کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے ۔
امیت شاہ کا کہنا تھا کہ صرف در اندازی روکنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ در اندازوں کو ملک سے نکال باہر بھی کیا جانا چاہئے ۔ یقینی طور پر یہ ایک اہمیت کا حامل اور سنگین مسئلہ ہے ۔ اس کی ذمہ داری بھی مرکزی حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ مرکز میں بی جے پی کو اقتدار سنبھالے ہوئے چند ماہ ہی ہوئے ہوں۔ ایک دہے سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے بی جے پی اقتدار پر فائز ہے ۔ اگر اتنے طویل عرصہ میں بھی بی جے پی اگر ملک کی سرحدات کی موثر ڈھنگ سے حفاظت نہیں کرسکتی اور در انداز کسی رکاوٹ کے بغیر ملک میں گھس کر آسکتے ہیں تو یہ بی جے پی کی سب سے بڑی ناکامی ہے اوراس ناکامی کا بی جے پی کو ملک کے عوام کے سامنے جواب دینا چاہئے ۔ اسے اپنی ناکامی چھپا کر سیاست کرنے کی بجائے سرحدات کی حفاظت کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کی نا اہلی کو انتخابی حربہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ملک کے عوام کو گمراہ کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ جہاں تک در اندازوں کو ملک سے نکال باہر کرنے کا سوال ہے تو یہ بھی بی جے پی کی ہی ذمہ داری بنتی ہے ۔ محض نعروں یا اشتعال انگیز بیانات کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے کی بجائے بی جے پی کو چاہئے کہ وہ یہ اعداد و شمار ملک کے سامنے پیش کرے کہ گذشتہ 12 سال کے عرصہ میں کتنے در اندازوں کو ملک سے نکال باہر کرنے میں کامیاب ہوئی ہے ۔ اگر کسی کو ملک سے نکالا نہیں گیا تو پھر اس کی وجوہات کیا ہیں اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ۔
محض انتخابات کے موسم میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے کی بجائے سنجیدگی سے اس مسئلہ کا حل دریافت کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔ ملک کی سرحدات کی موثر حفاظت کیلئے اقامات کئے جانے چاہئیں۔ تاحال جو در انداز ملک میں گھس آئے ہیں اس ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ۔ ان سے جواب طلب کیا جانا چاہئے اور ملک کے سامنے حقائق کو پیش کرتے ہوئے اپنی ناکامیوں پر معذرت خواہی کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک کے عوام کو بھی چاہئے کہ اس اہمیت کے حامل مسئلہ پر بی جے پی سے سوال کرے اور جواب طلب کیا جائے۔