ہمارے نقشِ قدم سے چمک اُٹھے شاید
فضائے منزلِ جاناں دھواں دھواں ہے ابھی
دستوری احتجاج جاری رہے
شہریت ترمیمی قانون پر مرکزی حکومت کی تاناشاہی اور ہٹ دھرمی کا ایک طرف سلسلہ جاری ہے تو سپریم کورٹ نے بھی اس قانون پر فی الحال روک لگانے سے انکار کردیا ہے اور مرکزی حکومت کو چار ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے ۔ چار ہفتوں کی مہلت مرکزی حکومت کو سپریم کورٹ کی جانب جو دی گئی ہے حکومت اسے اپنی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے اور اسے ایک بڑی راحت قرار دیا جا رہا ہے ۔ حکومت کو عدالت ہی سے کسی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ حکومت نے اپنے تیور صاف کرتے ہوئے یہ واضح کردیا ہے کہ ہندوستان بھر میں جو احتجاج چل رہا ہے اس کی اسے کوئی پرواہ نہیں ہے اور وہ احتجاج کو خاطر میں لانے تیار نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایک سے زائد موقعوں پر یہ اعلان کردیا ہے کہ سی اے اے سے دستبرداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت اس قانو ن سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی ۔ پھر لکھنو کی ریلی میں تو انہوں نے غرور اور تکبر کی انتہاء ہی کردی اور اعلان کیا کہ چاہے کتنا ہی احتجاج کیوں نہ کیا جائے اور چاہے کوئی بھی مخالفت کرے حکومت اس کو خاطر میں نہیںلائے گی اور یہ قانون واپس نہیں لیا جائیگا ۔ ایک طرف تو مرکزی حکومت کا یہ رویہ ہے تو دوسری طرف اترپردیش کی حکومت ہے جو شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو باضابطہ دھمکانے پر اتر آئی ہے ۔ ان سے انتقام لیا جا رہا ہے ۔ ان کی جائیداد و املاک کو فروخت کیا جا رہا ہے ۔ انہیں مقدمات میںماخوذ کیا جا رہا ہے اور ان کے حوصلے پست کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جو زر خرید سوشیل میڈیا کارکن ہیں وہ احتجاج کی اہمیت کو گھٹانے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ جو خواتین ہندوستان بھر میں احتجاج کی علامت بن گئی ہیں شاہین باغ میں انہیں چند سو روپئے کے عوض احتجاج کرنے والی خواتین قرار دیا ہے جارہا ہے ۔ اترپردیش کے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ بھی مسلمانوں کے تعلق سے ایسے ریمارکس کر رہے ہیں جو نہ صرف اقلیتوں کے تئیں ان کی نفرت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ خواتین کے تئیں ان کی پستہ اور کوتاہ ذہنیت کے بھی عکاس ہیں۔
جو اپوزیشن جماعتیں ہیں وہ بھی اس مسئلہ پرزیادہ شدت نہیں دکھا رہی ہیں۔ کانگریس اپنے اقتدار والی ریاستوں میں قرار دادیں منظور کر رہی ہے ۔ ممتابنرجی نے مخالفت کا اعلان کردیا ہے تو کیرالا میں بھی اس کے خلاف نہ صرف قرارداد منظور ہوئی ہے بلکہ حکومت کیرالا اس کے خلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع ہوچکی ہے ۔ تاہم جو دوسری علاقائی جماعتیں ہیں وہ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کے دباو میںہیں یا پھر اپنے مفادات کیلئے اس سیاہ قانون پر سمجھوتہ کرنے تیار ہوچکی ہیں۔ وہ نت نئے انداز سے اور جھوٹی تسلیوں اور دلاسے کے ذریعہ بی جے پی کے اور آر ایس ایس کے ایجنڈہ پر عمل آوری کرتی نظر آر ہی ہیں۔ وہ مسلمانوں کے ووٹ بھی حاصل کرنا چاہتی ہیں اور انہیں غفلت میں رکھتے ہوئے دھوکہ بھی دینا چاہتی ہیں۔ اس صورتحال میں نہ صرف مسلمانوں کے پاس بلکہ جو اس سیاہ قانون کے پس پردہ پوشیدہ سازش کو سمجھتے ہیں ان کے پاس ایک ہی راستہ رہ گیا ہے کہ وہ اپنے دستوری اور جمہوری احتجاج کو جاری رکھیں۔ اس میں شدت پیدا کریں۔ جمہوری اور دستوری احتجاج ہمارا حق ہے اور ہم کو اس حق کو پوری طرح استعمال کرنا چاہئے ۔ جو چوکسی اب تک احتجاج میں بتائی گئی ہے اور فرقہ پرستوں کو اور حکومت کے غنڈوں کو تشدد برپا کرنے کی جو اجازت نہیں دی گئی ہے وہ قابل تعریف ہے اور مستقبل کے احتجاج میں بھی یہی بات ملحوظ رکھنی چاہئے ۔
ہم یہ دیکھ رہے ہیںکہ اس نازک وقت میں جن سیاسی جماعتوں کو ہم نے اپنا ووٹ دے کر اقتدار بخشا ہے اور جن نمائندوںکو ایوانوں تک بھیجا ہے وہ دیوار کی بلی بنے ہوئے ہیں۔ یا تو خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں یا پھر احتجاج دکھاوے کیلئے کیا جا رہا ہے ۔ ایک بات کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ اشتعال انگیزی نہ ہونے پائے اور نہ تشدد کا راستہ پیدا ہو ۔ اشتعال انگیزی وہی لوگ کرتے ہیں جو حکومت کے آلہ کار ہوتے ہیں۔ اپنی چند لمحوں کی شعلہ بیانی کے ذریعہ واہ واہی لوٹ تو لیتے ہیں لیکن اس کے سارے ملک کے مسلمانوں کو جو اثرات ہوتے ہیں اس کے ذریعہ وہ حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔ ایسے عناصر سے بھی ہوشیار اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے ۔ احتجاج کو منطقی انجام تک پہونچانے کیلئے سبھی کو کمر کس لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اب احتجاج ہی ہمارا واحد راستہ رہ گیا ہے ۔