دستوری اقدار اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے عوام متحد ہوجائیں

   

وقف ترمیمی بل پر یکطرفہ فیصلہ، صدر نشین جے پی سی کے رویہ کے خلاف 10 ارکان کا مشترکہ بیان

حیدرآباد۔/28 جنوری، ( سیاست نیوز) وقف ترمیمی بل 2024 میں اپوزیشن ارکان کی پیش کردہ ترمیمات کو مسترد کرتے ہوئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے رپورٹ کے مسودہ کو قطعیت دیئے جانے پر اپوزیشن ارکان نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک کے دستوری اقدار کے تحفظ کیلئے آگے آئیں۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے برسراقتدار محاذ کے ارکان کی جانب سے پیش کردہ 14 ترمیمات کو قبول کیا جبکہ اپوزیشن ارکان کی جانب سے پیش کی گئی ترمیمات کو مسترد کردیا گیا۔ اپوزیشن کے 11 ارکان نے جے پی سی اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا۔ ارکان پارلیمنٹ اے راجہ، کلیان بنرجی، گورو گگوئی، اسد الدین اویسی، سید ناصر حسین، محب اللہ ندوی، عمران مسعود، ایم ایم عبداللہ، ڈاکٹر محمد جاوید، اروند ساونت اور محمد ندیم الحق نے کہا کہ اسپیکر لوک سبھا نے 9 اگسٹ 2024 کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی تھی اور جگدمبیکا پال کی صدارت میں کمیٹی کو ملک بھر میں اسٹیک ہولڈرس سے رائے حاصل کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی میعاد کے ختم ہونے سے قبل اپوزیشن ارکان نے کمیٹی کے انداز کارکردگی اور صدرنشین کی جانب سے قواعد کی خلاف ورزی پر احتجاج درج کرایا۔ اس سلسلہ میں اسپیکر لوک سبھا اوم برلا اور عوام کو بھی واقف کرایا گیا۔ ارکان نے بیان میں کہا کہ اسٹیک ہولڈرس میں 95 فیصد نے وقف ترمیمی بل کی مخالفت کی اور باقی 5 فیصد مذہبی بنیادوں پر کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے تھے۔ ارکان کے مطابق دہلی اور دیگر مقامات پر کمیٹی کے اجلاس کی روئیداد سے ارکان کو واقف نہیں کرایا گیا۔ کمیٹی کے ارکان کو ترمیمات پر اظہار خیال سے روک دیا گیا اور صدرنشین نے بل کی ہر دفعہ پر رائے پیش کرنے کی اجازت نہیں دی۔18 ، 20 اور 21 جنوری کو کمیٹی نے پٹنہ، کولکتہ اور لکھنو کا دورہ کرتے ہوئے اسٹیک ہولڈرس کی رائے حاصل کی۔ صدرنشین نے اسٹیک ہولڈرس سے کہا کہ وہ 15 دن میں اپنی رپورٹ پیش کریں۔ اسٹیک ہولڈرس کی رائے سے ارکان کو واقف نہیں کرایا گیا۔ بیان میں بتایا گیا کہ 24 اور 25 جنوری کو بل کے ہر سیکشن پر مباحث کے ایجنڈہ کے ساتھ اجلاس طلب کیا گیا تھا لیکن 23 جنوری کی آدھی رات کو صدرنشین نے ایجنڈہ تبدیل کردیا۔ جموں کشمیر کے اسٹیک ہولڈرس کی سماعت کے علاوہ 25 جنوری کے اجلاس کو ملتوی کردیا گیا۔ اجلاس کے اچانک التواء کے بارے میں صدرنشین نے کوئی وضاحت نہیں کی۔ ارکان نے کہا کہ کمیٹی نے 27 جنوری کے اجلاس میں اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود بل کے ہر سیکشن پر مباحث کی اجازت نہیں دی جو کہ کمیٹی کے قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ارکان کو ترمیمات پیش کرنے کی اجازت دینے کے بجائے صدرنشین نے خود ترمیمات پیش کی اور عددی طاقت کی بنیاد پر اپوزیشن کی ترمیمات کو مسترد کردیا گیا۔ صدرنشین نے اپوزیشن کی ترمیمات کو شکست کا اعلان کیا۔ صدرنشین کے اس اقدام سے دستور میں اقلیتوں کو دی گئی ضمانت کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ صدرنشین نے یکطرفہ اورمن مانی کارروائی کے ذریعہ مرکزی حکومت کو پارلیمنٹ میں اکثریت کی بنیاد پر بل کی کامیابی کی راہ ہموار کی ہے تاکہ سیکولر ملک کو زعفرانی رنگ دیا جاسکے۔ اپوزیشن ارکان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دستوری اقدار کے تحفظ کیلئے متحد ہوجائیں جو مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو، ڈاکٹر امبیڈکر، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور دوسروں نے قومی ترقی اور ملک کے سیکولر کردار کے تحفظ کیلئے طئے کئے تھے۔ بیان میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ دستور میں اقلیتوں کو دیئے گئے حقوق کے تحفظ کی مساعی کریں۔1