دستور کی بنیادوں کو کوئی بھی کمزور نہیں کرسکتا

   


سپریم کورٹ کی وضاحت ، ملک میں نفرت کے ماحول پر صدر مجلس کا اظہار تشویش
حیدرآباد۔4۔اکٹوبر(سیاست نیوز) دستورہند کے بنیادی اصولوں کو نریندر مودی یا کے چندر شیکھر راؤ کوئی بھی تبدیل نہیں کرسکتا ۔ سپریم کورٹ نے یہ واضح کردیا ہے کہ دستور کے بنیادی ڈھانچہ میں ترمیم یا اس کی تبدیلی نہیں کی جاسکتی ۔ صدر مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے منتھن سمواد سے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دستور سے چھیڑچھاڑ کی کوشش واجپائی کے دور حکومت میں بھی کی گئی تھی لیکن جس طرح اس وقت ناکامی کا سامنا کرنا پڑاتھا اسی طرح سے حکومت چاہے کسی کی ہو دستور کے بنیادی اصولوں کو تبدیل کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ملک بھر میں جاری نفر انگیز مہم اور تقاریر کے سلسلہ میں کہا نفرت انگیز تقاریر تو نفرتوں کو بڑھاوادینے کی ابتدائی کوششیں ہیں حالانکہ نفرت کو ہوا دینے کے لئے مرکزی سطح پر تیار کی گئی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ انہو ںنے کہا کہ جو پالیسی تیار کی گئی ہے اس پالیسی کے تحت ملک میں ایسا ماحول تیار کیا جا رہاہے جو عوام کے درمیان نفرت کو بڑھاوا دینے کا سبب بن رہا ہے۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہا کہ ہندستان میں انتخابات میں میں حصہ لینے کا سب کو اختیار حاصل ہے لیکن جب ان کی پارٹی ملک کے کسی حصہ میں انتخابات میں حصہ لیتی ہے تو انہیں بی جے پی کی ’’ بی ‘‘ ٹیم کہا جاتا ہے جبکہ اگر عام آدمی پارٹی کی جانب سے گجرات میں امیدا وار ٹھہرانے کی بات کی جاتی ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جا تا ہے جبکہ اگر مجلس کے امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو انہیں بی جے پی کی ’بی‘ ٹیم قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ مسلم ہیں۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے کہا کہ گذشتہ پارلیمانی انتخابات کے دوران مجلس نے مہاراشٹرا ‘ تلنگانہ کے علاوہ بہار سے صرف ایک لوک سبھا نشست سے مقابلہ کیا تھا جن میں دو پر کامیابی حاصل ہوئی ۔ انہو ںنے کہا کہ پارلیمنٹ میں تمام طبقات کی نمائندگی کرنے والے ارکان موجود ہیں لیکن مسلم امیدواروں کو کسی اور طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کے بہت کم ووٹ حاصل ہوتے ہیں جو کہ المیہ سے کم نہیں ہے۔ اسد الدین اویسی نے دستور کو تبدیل کرنے کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دستور ہند کو ہاتھ لگانے کا بھی کسی میں دم نہیں ہے۔ انہو ںنے کہا کہ بہار اسمبلی انتخابات میں مجلس نے 20 اسمبلی نشستوں پر مقابلہ کیا تھا جس میں 5 پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ انہوں نے منتخبہ عوامی نمائندوں کے پارٹیوں کو تبدیل کرنے کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ منتخبہ عوامی نمائندوں کے پارٹیاں تبدیل کرنے کے سخت مخالف ہیں کیونکہ ایسا کرنا اپنے رائے دہندوں کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اپنے خطاب کے دوران چیف منسٹر بنگال ممتا بنرجی اور چیف منسٹر بہار نتیش کمار کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ قائدین قابل اعتبار نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی سہولت کے مطابق بی جے پی سے اتحاد کیا اور دوریاں اختیار کی ہیں۔ انہو ںنے ممتا بنرجی اور نتیش کمار کے این ڈی اے میں رہنے کے دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان قائدین کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔انہو ںنے ملک سے نفرت انگیزمہم کے خاتمہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کے شکرگذار ہیں کیونکہ چیف منسٹر تلنگانہ نے حالیہ عرصہ میں پیش آئے نفرت انگیز مہم کے واقعات کو روکنے کے لئے جو اقدامات کئے ہیں وہ لائق ستائش ہیں۔صدر مجلس نے کہا کہ دستور ہند نے تمام شہریو ں کو مساوی حقوق فراہم کئے ہیں اور اگر کوئی لڑکی حجاب پہن کر اسکول یا کالج جانا چاہتی ہے تو یہ اس کا دستوری حق ہے اور اس سے کوئی یہ حق نہیں چھین سکتا۔ انہو ں نے کہا کہ ملک میں دستور کے بنیادی اصولوں کو منصوبہ بند انداز میں نشانہ بنایا جارہا ہے اور دستور میں ہندستانی شہریوں کو فراہم کئے گئے حقوق کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔م