پارلیمنٹ میں کانگریس رکن کے سوال پر مرکزی وزیر کا جواب
حیدرآباد ۔ 18 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : یونین سوشیل جسٹس اینڈ امپاورمنٹ منسٹر رام داس اٹھالوے نے کہا کہ تلنگانہ میں دستی طور پر کوئی صفائی کرنے والے نہیں ہیں اور کہا کہ اور یہ اعداد و شمار 2013 سے 2018 میں کئے گئے سروے سے حاصل کیا گیا ہے کانگریس رکن پارلیمنٹ گڈم ومشی کرشنا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے اٹھاولے نے کہا کہ حکومت نے دستی صفائی کرنے والوں کو متبادل پیشوں میں کامیابی کے ساتھ بحال کیا ہے ۔ این ڈی اے حکومت کا دستی صفائی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ اس اقدام کے لیے تلنگانہ سمیت 13 ریاستوں میں 3813 مستفیدین کے ساتھ سوالات پوچھے گئے ۔ سروے کرنے والوں میں 45 فیصد افراد کی عمر 31 سے 45 سال کے درمیان تھیں ۔ جب کہ 25 فیصد افراد کی عمر 46 سے 60 سال کے درمیان تھیں ۔ جن مستحقین کی نشاندہی کی گئی ان میں سے 56.5 فیصد خواتین تھیں ۔ دستی صفائی سے مراد لیٹرین ، کھلے نالوں اور گڑھوں سے انسانی اخراج کو دستی طور پر صاف کرنے ، ٹھکانے لگانے یا دوسری صورت میں سنبھالنے کی مشن ہے ۔ یہ عمل تاریخی طور پر ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک سے منسلک رہا ہے جو بنیادی طور پر پسماندہ برادریوں کو متاثر کرتا ہے ۔ خاص طور پر دلت 1993 سے باضابطہ طور پر پابندی کے باوجود ہندوستان میں صفائی کے ناکافی انفراسٹرکچر اور سماجی و اقتصادی عوامل کی وجہ سے دستی صفائی جاری ہے ۔۔ ش