دشمن افواج کی جاسوسی کیلئے دنیا میں 10 طاقتورترین فوجی گاڑیاں

   

بلجیم کی بکتربند گاڑی سرفہرست، آسٹریلیا، جرمنی اور امریکہ کے پاس بھی صلاحیت
حیدرآباد۔ 11 اکتوبر (سیاست نیوز) جنگ کے حالات ہوں یا کچھ اور دشمن افواج کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے عصری ٹیکنالوجی سے لیس انتہائی طاقتور بکتر بند گاڑیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ عصری آلات سے لیس ان گاڑیوں کو عام طور پر اسکاوٹ وہیکل بھی کہا جاتا ہے اور دنیا میں 10 ممالک ایسے ہیں جنہوں نے ان گاڑیوں کو تیار کیا ہے۔ چھوٹی اور اوسط درجہ کی فوجی گاڑی جو مخالف افواج کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے انٹلی جنس وہیکل کے طور پر خدمات انجام دیتی ہے۔ عصری فوجی گاڑیوں کی تیاری میں آسٹریلیا، جرمنی، فرانس، برطانیہ، بلجیم، امریکہ، روس، نیدر لینڈ، ترکیہ، جاپان اور اٹلی نے اہم پیشرفت کی ہے۔ ان گاڑیوں کی خصوصیت یہ ہے کہ انہیں دشمن افواج کی جانب سے بہ آسانی نشانہ نہیں بنایا جاسکتا اور وہ 90 تا 200 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسافت طے کرتی ہیں۔ مختلف ممالک کی جانب سے تیار کردہ گاڑیوں کی صلاحیت اور مسافت طے کرنے کی رفتار مختلف ہے۔ بلجیم کی جانب سے تیار کردہ Cockerill I-X کا شمار 200 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسافت طے کرنے والی فوج کی جاسوسی گاڑی کے طور پر شمار کیا گیا ہے۔ برطانیہ، اٹلی اور ترکیہ کی جانب سے تیار کی گئی یہ گاڑیاں 120 تا 130 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی مسافت سے فاصلہ طے کرتے ہوئے دشمن کی افواج کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یوروپ، ایشیا، آسٹریلیا اور نارتھ امریکہ میں ان فوجی گاڑیوں کی ڈیزائن کی گئی جو دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کرچکی ہیں۔ ان بکتر بند گاڑیوں پر انتہائی عصری اور حساس نوعیت کے آلات نصب کئے گئے ہیں جو کئی کیلو میٹر کے فاصلے تک راڈار کے ذریعہ دشمن کی پیشرفت اور ہلچل کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ زمینی جنگ کی صورت میں یہ جاسوسی بکتربند گاڑیاں زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدوں کی نگرانی اور دشمن افواج کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے میں یہ گاڑیاں فوج کی مدد کرتی ہیں۔ 1؍F