دفتر سنگھ میں موہن بھگوت کی مولانا مدنی سے ملاقات

   

تین روز بعد انکشاف ۔ ہندو مسلم اتحاد، ہجومی تشدد، این آر سی پر تبادلہ خیال

نئی دہلی ، 2 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سربراہ آر ایس ایس موہن بھگوت نے جمعیۃ علماء ہند (جے یو ایچ) کے قائد مولانا سید ارشد مدنی سے ملاقات کی اور انھوں نے کئی مسائل پر تبادلہ خیال کیا جن میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو مضبوط کرنا اور ’ماب لنچنگ‘ کے واقعات شامل ہیں۔ یہ میٹنگ جمعہ کو یہاں سنگھ کے دفتر واقع کیشو کنج میں ہوئی اور اس کا اہتمام سابق بی جے پی جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) رام لال نے کیا، جو اَب آر ایس ایس کی صفوں میں واپس ہوچکے ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا، ’’یہ ملاقات زائد از 90 منٹ چلی اور کئی مسائل پر غور کیا گیا۔ بھگوت صاحب بھی اس میٹنگ کیلئے ناگپور سے آئے۔ یہ ملاقات کافی پرجوش اور ہم آہنگ ماحول میں ہوئی‘‘۔ انھوں نے کہا کہ سنگھ اور جمعیۃ دونوں شاید قوم کی سب سے بڑی غیرسیاسی تنظیمیں ہیں اور وہ ملک کے مفاد میں کام کرنا چاہتے ہیں جس نے ان کو ایک میز پر لایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو مضبوط کرنے، ہجومی تشدد کے واقعات، اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) جیسے موضوعات زیرغور آئے۔ دونوں قائدین کے درمیان ملاقات آسام میں قطعی این آر سی فہرست کی اجرائی سے ایک روز قبل منعقد ہوئی تھی۔ مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے میٹنگ میں اس بات کا اظہار کردیا کہ جمعیۃ وی ڈی ساورکر اور ایم ایس گولوالکر کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتی ہے۔ سنگھ کے شعبہ تشہیر کے ایگزیکٹیو راجیو ٹی نے ربط پیدا کرنے پر اس میٹنگ کی تصدیق کی اور کہا کہ بھگوت سربراہ سنگھ ہونے کے ناطے سماج کے مختلف طبقات کے لوگوں سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ ’’اسی طرح کے سلسلہ وار میٹنگس میں بھگوت جی نے مدنی جی سے جمعہ کو ملاقات کی۔ سنگھ اس ملک میں اتحاد اور امن کیلئے کام کرتا ہے اور جو کوئی اس مساعی میں شامل ہونا چاہے اس کا خیرمقدم ہے۔‘‘ سنگھ کے ذرائع کے مطابق یہ میٹنگ دراصل رواں سال کے اوائل منعقد ہونے والی تھی لیکن اسے لوک سبھا انتخابات کے بعد تک ملتوی کردیا گیا تاکہ اس میٹنگ کو کوئی سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔