دفعہ 370 کی منسوخی اور صدارتی احکام کو سپریم کورٹ میں چیلنج

,

   

Ferty9 Clinic

عوامی مرضی کے بغیر مرکز کا اقدام ، شہریوں سے بنیادی حقوق چھین لئے گئے

عدالت عظمیٰ میں نیشنل کانفرنس کا استدلال

نئی دہلی۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے دستوری موقف میں کی گئی حالیہ تبدیلیوں کو سپریم کورٹ تک پہنچاتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے پرزور انداز میں قانونی طور پر چیلنج کیا ہے اور یہ استدلال کیا کہ رائے عامہ کے حصول کے بغیر کی جانے والی ان تبدیلیوں سے اس (ریاست) کے شہریوں کے حقوق سلب ہوگئے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کی درخواست میں ادعا کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کی طرف سے منظورہ قانون سازی اور صدارتی احکام غیردستوری ہیں۔ چنانچہ ان کو غلط اور ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا جائے۔ نیشنل کانفرنس کے دو ارکان لوک سبھا محمد اکبر لون اور جسٹس (ریٹائرڈ) حسنین مسعودی نے یہ درخواست دائر کی ہے۔ لون ، جموں و کشمیر کے سابق اسپیکر بھی ہیں جبکہ مسعودی ریاستی ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج ہیں جنہوں نے 2015ء میں یہ رولنگ دی تھی کہ دفعہ 370 دستور کا ایک مستقل حصہ ہے۔ ان دونوں نے جموں و کشمیر تنظیم جدید قانون 2019ء اور مابعد جاری کردہ صدارتی احکام کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا ہے۔ صدارتی احکام سے جموں و کشمیر میں دستور کی تمام دفعات کے نفاذ کی راہ ہموار ہوگئی ہے اور اس کے اثر سے دفعہ 35A اور دفعہ 370 کی مکمل منسوخی ہوتی ہے۔ ان دونوں ارکان پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی موقف سے متعلق دفعہ 370 کی منسوخی اور اس ریاست کو دو مرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کی مرکز کے فیصلوں چیلنج کیا ہے اور عدالت سے درخواست کی ہے کہ حکومت کی طرف سے کی گئی قانون سازی اور مابعد جاری کردہ صدارتی احکام کو کالعدم اور ناقابل عمل قرار دیا جائے۔ درخواست گزاروں نے کہا ہے کہ قانون سازی اور صدارتی احکام غیرقانونی اور اُن بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں جن کی دستور میں جموں و کشمیر کے شہریوں کو ضمانت دی گئی تھی۔ دونوں ارکان پارلیمنٹ نے استدلال پیش کیا کہ عدالت عظمی کو اب اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ آیا مرکزی حکومت ’یکطرفہ‘ فیصلے کرسکتی ہے اور صدر راج کی ڈھال میں منفرد وفاقی اسکیم کو پامال کرسکتی ہے۔ ایسے اقدامات سے مروجہ عمل کے علاوہ قانون کی حکمرانی کے کلیدی عناصر پوری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’چنانچہ یہ معاملہ ہندوستانی وقافیت، جمہوری عمل کے دل کی تہہ تک پہنچتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا رول وفاقی ڈھانچہ کے سرپرست و مربی جیسا ہے‘۔