یوپی پنچایت انتخابات سے قبل بہوجن سماج پارٹی کو بڑے چیلنج کا سامنا
لکھنؤ : اترپردیش کی سیاست میں سرگرم رول ادا کرنے والی بہوجن سماج پارٹی کی سیاسی ساکھ اب کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ رائے دہندوں میں اس پارٹی کیلئے کوئی ہمدردی نظر نہیں آرہی ہے۔ 2012ء سے ہی بہوجن سماج پارٹی اپنی اہمیت کھوتی جارہی ہے۔ اب دلت لیڈر اور صدر بی ایس پی مایاوتی کو اپنی سیاسی مستقبل کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ اترپردیش کے پنچایت انتخابات میں پارٹی کی موجودگی کو یقینی بنانے کیلئے بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے پارٹی کیڈرس کے ساتھ ملاقات کرنا شروع کیا ہے۔ پنچایت انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے پارٹی کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرنے کے علاوہ امیدواروں کی فہرست تیار کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔ اس وقت مایاوتی اور ان کی پارٹی کے قائدین سیاسی طور پر یکاوتنہا دکھائی دے رہے ہیں۔ یوپی کی متحرک سیاست میں اپنا غلبہ رکھنے والی مایاوتی کو کئی چیلنجس کا سامنا ہے۔ ان کے بارے میں اب ان کے حامی خاموش ہیں۔ سیاسی سرگرمیاں بھی محدود دکھائی دے رہی ہیں۔ دوسری جانب بہوجن سماج پارٹی کو مقامی قائدین سے بہت بڑے چیلنجس کا سامنا ہے کیونکہ کل تک بی ایس پی میں اہم سمجھے جانے والے مقامی قائدین دوسری پارٹی میں شامل ہورہے ہیں۔ کئی سیاسی مسائل پر مایاوتی کی غیرحاضری اور اہم ووٹ بینک کھودینے کے اندیشہ کے پیش نظر پارٹی قائدین دل بدلی اختیار کررہے ہیں۔ 2019ء کے لوک سبھا انتخابات کے بعد سے بی ایس پی کی مقبولیت کا گراف گرتا جارہا ہے۔ بی ایس پی کے کئی اہم قائدین نے حریف پارٹی سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے اور یہ یقین کیا جارہا ہیکہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں انہیں سماج وادی پارٹی سے فائدہ حاصل ہوگا۔ بی ایس پی کے مزید کئی قائدین دوسری پارٹیوں میں شامل ہونے کیلئے پر تول رہے ہیں۔