پٹنہ: مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر نتیا نند رائے نے حال ہی میں بہار میں مہادلت برادری کی ایک خاتون کے ساتھ کیے گئے غیر انسانی فعل پر سوال اٹھاتے ہوئے آج کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر اعلی تیجسوی پرساد یادو اتنے سنگین معاملے پر بھی خاموش کیوں ہیں۔رائے نے بدھ کو یہاں کہا کہ اگر آج بہار میں خواتین محفوظ نہیں ہیں تو اس کی ذمہ داری حکمراں جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی ملی جلی گھمنڈیہ حکومت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی پرساد یادو کی حکومت میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہ گیا ہے ۔ ریاست میں اس طرح کے غیر انسانی واقعات آئے دن ہو رہی ہے ۔مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ نتیش تیجسوی حکومت میں مہادلت برادری کی ایک خاتون کو برہنہ کیا گیا اور اسے پیشاب پینے جیسا گھناؤنا اور غیر انسانی فعل کیا گیا۔ اس سب کے باوجود وزیر اعلیٰ مسٹر کمار اور نائب وزیر اعلیٰ مسٹریادو اپنی آنکھوں اور منہ پر پٹی باندھ کر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بہار میں مجرموں کے حوصلے بلند ہیں، انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ بہار حکومت خود ان کی حفاظت کر رہی ہے ۔بی جے پی لیڈر نے کہا کہ آج بہار میں خواتین محفوظ نہیں ہیں، انہیں خوف کے ماحول میں رہنا پڑتا ہے ، اور جے ڈی یو اور آر جے ڈی کی متکبر حکومت اس کے لیے ذمہ دار ہے ۔ بہار میں خواتین کے ساتھ اس طرح کے واقعات آئے روز ہو رہے ہیں۔ بہار کے ساتھ ساتھ ملک کے عوام نے ان کی دو چہروں والی سیاست اور جھوٹ کو پہچان لیا ہے ۔ بہار کے لوگ آر جے ڈی-جے ڈی یو کو سخت سبق سکھانے کے لیے تیار ہیں۔