دمشق میں فلسطینی گروپس کو پریشان نہ کئے جانے کی تصدیق

   

پی ایل او دمشق میں بدستور سرگرم ، فلسطینیوں اور نئے شامی انتظامیہ کے درمیان کوئی بحران نہیں

دمشق: شام میں بشار الاسد کی حکومت کے زوال اور ان کے ماسکو فرار ہونے کے بعد اب نظریں “تحریر الشام” تنظیم پر مرکوز ہو گئی ہیں کہ وہ فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کرتی ہے۔ بالخصوص جبکہ ان گروپوں کے زیادہ تر رہنما نصف صدی سے زیادہ عرصے سے البعث پارٹی کے حلقے میں گھوم رہے تھے۔ان گروپوں میں “القیادہ العامہ” نے دمشق میں مسلح اپوزیشن کے خلاف ایک سے زیادہ معرکے میں شرکت کی۔ اس کے برعکس حماس تنظیم 2011 سے بشار الاسد کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوئی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ملنے والی معلومات کے مطابق فلسطینی گروپوں نے دمشق کے نواحی علاقوں میں واقع تربیتی کیمپوں کو خالی کر دیا ہے۔ ان کیمپوں کا تعلق “القیادہ العامہ”، “الصاعقہ” اور “فتح الانتفاضہ” نامی گروپوں سے ہے۔ مزید یہ کہ ان گروپوں نے ساز و سامان اور اسلحہ ان کیمپوں میں ہی چھوڑ دیا جو اقتدار سنبھالنے والے شامی اپوزیشن گروپوں کے ہاتھوں میں آگیا۔البتہ ‘تنظیم آزادی فلسطین’ (پی ایل او) دمشق میں معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔اسی طرح فلسطینی گروپوں کے دفاتر مذکورہ کیمپوں کے اندر کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنے اجلاسوں کا انعقاد کیمپوں میں یا شام میں فلسطینی سفارت خانہ میں کرتے ہیں۔ذرائع نے واضح کیا کہ فلسطینی گروپوں کے ذمہ داران کو ایسی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی جس میں فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں تنگی یا پریشانی کی اطلاع دی گئی ہو۔ایک سے زیادہ ذمہ داران نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دمشق میں نئے حکام “ہمیں تنگ نہیں کر رہے ہیں اور ہم بھی ان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔ فلسطینی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حماس تنظیم نے دمشق میں گروپوں کے لیے فلسطینی چھتری تشکیل دے دی تا کہ فلسطینیوں اور نئی شامی انتظامیہ کے بیچ کوئی بحران جنم نہ لے۔دمشق میں مقیم فلسطینی ذمے داران کچھ عرصہ قبل احتیاط کے پیش نظر بیروت منتقل ہو گئے تھے کہ کہیں وہ شامی اپوزیشن گروپوں کے ہاتھوں میں نہ چلے جائیں۔یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں ادلب میں اپوزیشن گروپوں کے ساتھ مل کر لڑنے والے سینکڑوں فلسطینی جنگجو گذشتہ ہفتے مسلح اپوزیشن کے دمشق پہنچنے پر ان کے ساتھ جا ملے ہیں۔