دنیا پر ایک نئی جنگ کا خطرہ

   

خدائے برتر تیری زمیں پر زمیں کی خاطر یہ جنگ کیوں ہے
ہر ایک فتح و ظفر کے دامن پہ خونِ انساں کا رنگ کیوں ہے
روس کے جارحانہ تیور کی وجہ سے دنیا پر ایک اور جنگ کا خطرہ منڈلانے لگا ہے اور ہر گذرتے دن کے ساتھ یہ خطرہ بڑھتا بھی جا رہا ہے ۔ روس پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس نے اپنے پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کرنے اور اس پر قبضہ کرنے کی تیاریاں مکمل کرچکا ہے اور وہ کسی بھی وقت حملہ کرسکتا ہے ۔ تاہم روس کا کہنا ہے کہ وہ بلااشتعال کسی بھی کارروائی کا آغاز نہیں کریگا ۔ اس طرح روس نے جنگ یا حملے کی ذمہ داری دوسروں پر منتقل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف کسی جارحیت کے امکانات کو مسترد تو کیا جا رہا ہے لیکن ساتھ ہی یوکرین کے اطراف بھاری فوجی اجتماع کیا جا رہا ہے ۔ بڑے ہتھیار متعین کئے جا رہے ہیں اور دوسری تیاریاں بھی زور و شور سے جاری ہیں۔ مغربی دنیا اور خاص طور پر یوروپ میں یہ تاثر عام ہوچکا ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین پر کسی بھی دن حملہ کیا جاسکتا ہے اور اس کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ کچھ گوشوں کی جانب سے تو 16 فبروری چہارشنبہ کو حملہ کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ ولادیمیر پوٹین نے اپنی جنرلوں کو اس دن حملہ کی ہدایت دیدی ہے تاہم اس طرح کی پیش قیاسیاں پہلے بھی کی گئی تھیں جو بے بنیاد ثابت ہوئی ہیں۔ پیشگی اطلاع دیتے ہوئے حملے کرنے کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ۔ تاہم یوروپی ممالک اور ان کے سفارتکاروں کی جانب سے جنگ کے تعلق سے ہزیانی کیفیت بھی پیدا کی جا رہی ہے ۔ امریکی صدر جو بائیڈن اور وزیر اعظم برطانیہ بورس جانسن بھی اس پر باہمی تبادلہ خیال کرچکے ہیں اور دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ بات چیت بھی کی جا رہی ہے ۔ اس کے علاوہ روس بھی اپنے حلیفوں سے بات چیت میں مصروف ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ کسی بھی حملے یا جنگی کارروائی سے قبل تمام تر سفارتی کوششوں کی تکمیل کر رہا ہے ۔ تاہم یہ کوششیں کس حد تک سنجیدہ ہیں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ یوکرین پر کچھ روسی مفادات کو نقصان پہونچانے کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اس نے کئی عام شہریوں کو سزائیں دیتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے ۔
روس دنیا کا دوسرا طاقتور ملک سمجھا جاتا ہے اور سارے علاقہ میں اس کی اجارہ داری ہے ۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اس کے تیور جارحانہ ہیں اور وہ توسیع پسندانہ عزائم کے ساتھ کام کر رہا ہے ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ روس نے 1979 میں افغانستان میں مداخلت کی تھی اور وہاں نتائج اس کیلئے حوصلہ افزاء نہیں رہے تھے ۔ اس لئے روس اس بار یوکرین میں کسی طرح کا خطرہ مول لینے سے گریز کریگا ۔ تاہم جو آثار و قرائن ہیں وہ روس کی جارحیت کو آشکار کرتے ہیں ۔ یوکرین کے بحران پر امریکی صدر جو بائیڈن کی ولادیمیر پوٹن سے ایک گھنٹے تک فون پر بات چیت ہوئی لیکن دونوں ممالک کے مابین بھی تعلقات ٹھیک نہیں ہیں۔ امریکی صدر روس پر کسی طرح کا دباؤ ڈالنے اور بحران کو ٹالنے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔ عام تاثر یہ بھی ہے کہ جو بائیڈن ایک کمزور صدر ثابت ہو رہے ہیں اور وہ دنیا پر اپنا غلبہ بنانے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ اسی صورتحال کا روسی صدر پوٹن فائدہ اٹھا رہے ہیں اور وہ دنیا پر اپنا حلقہ وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ اسی عزم کے ساتھ وہ جنگ کا راستہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کریں گے ۔ دنیا کے دوسرے اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک کی جانب سے جنگ کو ٹالنے کی کوششیں بھی شروع کردی گئی ہیں۔ روس کو اس کے جارحانہ عزائم سے باز رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم روس جہاں بات چیت کر رہا ہے وہیں اس کی جانب سے یوکرین کے اطراف فوجی اور جنگی تیاریاں بھی زور و شور سے جاری رکھے ہوئے ہے۔
صورتحال کو دیکھتے ہوئے دنیا کے بیشتر ممالک خاص طور پر یوروپی ممالک نے اور ہندوستان نے بھی اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ جتنا ممکن ہوسکے جلدی یوکرین سے نکل جائیں۔ یہ بات کا ثبوت ہے کہ یوکرین پر روس کا حملہ کسی بھی وقت ہوسکتا ہے اور حملے کے اندیشے بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔ اس صورتحال میں اقوام متحدہ یا دنیا کے دوسرے تمام امن پسند ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ روس پر اثر انداز ہوں اور اسے جارحانہ تیور سے باز رکھنے کیلئے ہر ممکن جدوجہد کریں۔ جنگ کا آغاز تو سربراہان حکومت کے عزائم سے ہوتا ہے لیکن اس کے اثرات عام انسان کی تباہی کی وجہ بنتے ہیں۔ جنگ کو بہر صورت روکا جانا چاہئے ۔