بارسلونا ۔ 6 جنوری (ایجنسیز) دنیا بھر میں طویل عمری ہمیشہ انسان کے لیے حیرت اور تجسس کا باعث رہی ہے۔ اکثر لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر کچھ افراد سو برس سے زائد عمر کیسے حاصل کر لیتے ہیں۔ اب اس سوال کا ایک واضح سائنسی جواب دنیا کی معمر ترین خاتون ماریہ برانیاس موریرا کے طبی جائزے سے سامنے آیا ہے، جو 117 برس کی عمر تک زندہ رہیں۔ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ ماریہ برانیاس کے جسم میں موجود خلیات غیر معمولی طور پر جوان تھے۔ سائنسی جائزے کے مطابق ان کے خلیات کی حیاتیاتی عمر ان کی اصل عمر کے مقابلے میں کہیں کم تھی، جسے ان کی طویل اور صحتمند زندگی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ تحقیق بارسلونا میں قائم تحقیقی ادارہ کے ماہرین کی نگرانی میں انجام دی گئی۔ ماہرین نے خاتون کے خون، تھوک اور فضلہ کے نمونوں کا تفصیلی تجزیہ کیا، جو انہوں نے 2024 میں اپنے انتقال سے قبل رضاکارانہ طور پر فراہم کیے تھے۔تحقیق کے نتائج کے مطابق بڑھاپے کے باوجود ماریہ برانیاس کی مجموعی صحت نہایت بہتر رہی۔ ان کا دل صحت مند تھا، جسم میں سوزش کی سطح بہت کم پائی گئی اور عمومی جسمانی نظام مؤثر انداز میں کام کرتا رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ تمام عناصر صحت مند بڑھاپے کی واضح علامت ہیں۔خوراک کے حوالے سے بتایا گیا کہ ماریہ برانیاس اپنی روزمرہ غذا میں دہی کا باقاعدہ استعمال کرتی تھیں، جس سے ان کے معدے اور آنتوں کی صحت بہتر رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر نظامِ ہضم انسانی صحت اور طویل عمری میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اسی لیے ان کی خوراک کو بھی ان کی لمبی عمر کی ایک اہم وجہ سمجھا جا رہا ہے۔ماریہ برانیاس کی غیر معمولی عمر محض کسی ایک سبب کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ جینیاتی خصوصیات، متوازن خوراک اور صحت مند طرزِ زندگی کا مجموعہ تھی۔ سائنسدان اب اس تحقیق کی بنیاد پر ایسے حیاتیاتی اشاریوں پر کام کر رہے ہیں جو مستقبل میں انسان کی متوقع عمر بڑھانے اور بڑھاپے کو صحت مند بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ تحقیق اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ طویل اور صحت مند زندگی کے لیے صرف عمر کا بڑھنا کافی نہیں بلکہ جسمانی صحت، خوراک اور روزمرہ عادات بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔
