خواتین کی آواز ڈیجیٹل طریقہ سے دبائی جارہی ہے، جمہوریت کے انحطاط کے بھی خواتین پر منفی اثرات: گوٹیرس
٭عالمی یوم خواتین٭
نیویارک : اقوام متحدہ کے خواتین کے امور سے متعلق ادارہ کی جمعرات کو شائع ہوئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال دنیا بھر کے ایک چوتھائی ملکوں میں آب و ہوا کی تبدیلی سے لیکر جمہوریت کے انحطاط جیسے عوامل کے باعث خواتین کے حقوق کی صورت حال پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جمہوری اداروں کا کمزور ہونا اورصنفی مساوات پر منفی ردعمل ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حقوق مخالف عناصر خواتین کے حقوق سے منسلک اہم مسائل پر دیرینہ اتفاق رائے کو فعال طور پر کھوکھلا کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں 1995 میں خواتین پر عالمی کانفرنس کی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ تقریباً ایک چوتھائی ملکوں نے کہا ہے کہ صنفی مساوات پر آنے والا ردعمل بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن (بیجنگ کانفرنس کی سفارشات) کے نفاذ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ کانفرنس کے انعقاد کے بعد سے 30 برسوں میں اس کی سفارشات پر پیش رفت ملی جلی رہی ہے۔ دنیا بھر کی پارلیمانوں میں خواتین کی نمائندگی 1995 کے بعد سے دو گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود اب بھی پارلیمنٹ کے تین چوتھائی ارکان مرد ہی ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2010 اور 2023 کے دوران سماجی تحفظ کے فوائد حاصل کرنے والی عورتوں کی تعداد میں ایک تہائی اضافہ ہوا ہے جب کہ اب بھی دو ارب عورتیں اور لڑکیاں ایسی جگہوں پر رہتی ہیں جہاں انہیں سماجی تحفظات میسر نہیں ہیں۔ ملازمتوں میں صنف کے حوالے سے جمود طاری ہے۔ جس کی وضاحت ان اعداد و شمار سے ہوتی ہے کہ 25 اور 54 سال کی عمر کے درمیان 63 فی صد خواتین ملازمت کرتی ہیں جب کہ عمر کے اسی حصہ کے مردوں میں ملازمت کرنے کی شرح 92 فی صد ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں عالمی وبا کوویڈ۔19، عالمی تنازعات، آب و ہوا کی تبدیلی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز ، مثال کے طور پر مصنوعی ذہانت(AI) سمیت تمام کو صنفی مساوات کیلئے نئے امکانی خطرات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران تنازعات سے منسلک جنسی تشدد میں 50 فی صد اضافہ ہوا ہے جس کا نشانہ بننے والوں میں 95 فی صد بچے اور نوجوان لڑکیاں ہیں۔ دریں اثناء سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے خواتین کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خواتین کے حقوق کی پامالی کیلئے اقدامات میں کمی کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ میں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے منعقد تقریب میں گوتریس کا کہنا ہے کہ ہر 10 منٹ میں، ایک عورت اس کے ساتھی یا خاندان کے کسی فرد کے ہاتھوں ماری جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی آواز دبانے کیلئے ڈیجیٹل ٹولز استعمال ہور ہے ہیں، خواتین کے حقوق کی جنگ لڑیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا خواتین کے بنیادی حقوق کیلئے کھڑی ہو رہی ہے، 612 ملین خواتین اور لڑکیاں مسلح تصادم کے سائے میں زندگی بسر کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ایسی دنیا کو ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے جہاں خواتین اور لڑکیاں خوف کے عالم میں زندگی بسر کریں۔
انتونیو گوتریس نے یہ بھی کہا کہ اقوامِ متحدہ کے تمام رہنماؤں کو ہر فیصلے اور ہر فورم پر خواتین کے حقوق کا دفاع کرنا چاہیے۔