’’ دنیا کے ہر مظلوم کومیری تائیدو حمایت ‘‘فلسطین کے مظلومینسے پرینکا گاندھی کا منفرد اظہار یگانگت

,

   

حیدرآباد۔/17 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی کی تاریخ رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوکر انصاف دلانے کی کوشش کی۔ لوک سبھا کیلئے پہلی مرتبہ منتخب ہونے والی کانگریس قائد پرینکا گاندھی نے مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یگانگت کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیام دیا کہ ’’ میں دنیا کے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑی ہوں ‘‘۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کیلئے آج پرینکا گاندھی نے جو بیاگ ساتھ رکھا اس پر بنگلہ دیش تحریر ہے۔ بنگلہ دیش میں حالیہ بغاوت کے بعد اقلیتوں پر مبینہ مظالم کی اطلاعات ہیں۔ گزشتہ روز جب پرینکا گاندھی پہونچیں تو ان کے کندھے پر جو بیاگ تھا اس پر فلسطین تحریر تھا۔ فلسطین میں جاری خونریزی کے پس منظر میں امن کی اپیل تصویر کے ذریعہ پیش کی گئی تھی۔ پرینکا کی یہ تصویر نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھی جارہی ہے اور کروڑہا افراد نے پرینکا کے اس اقدام کی ستائش کی ہے۔ پرینکا جنہوں نے گذشتہ چند برسوں میں مودی حکومت کے مخالف عوام فیصلوں اور نفرت کی سیاست کیخلاف کانگریس کی مہم کی قیادت کی ہے فلسطین کے مظلوموں کی حمایت کرتے ہوئے دنیا بھر کے انصاف پسندوں کو پیام دیا کہ وہ بھی فلسطین کے مظلوموں کا ساتھ دیں۔ پرینکا نے زبان سے کچھ نہیں کہا لیکن ان کے بیاگ نے ان کے قلبی جذبات و کیفیت کی ترجمانی کی ہے۔ پرینکا کی سوشیل میڈیا میں بھرپور ستائش کی جارہی ہے۔1

بیک وقت انتخابات آئین اور وفاقیت پر حملہ: پرینکا
نئی دہلی : کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے منگل کو الزام لگایا کہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے بیک وقت انعقاد کا بل آئین اور وفاقیت کے خلاف ہے۔انہوں نے پارلیمنٹ کمپلیکس میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ ایک آئین مخالف بل ہے۔ یہ ہماری قوم کی وفاقیت کے خلاف ہے۔ ہم اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔حکومت نے منگل کے روز اپوزیشن جماعتوں کی شدید مخالفت کے درمیان ایوان زیریں میں ملک میں بیک وقت لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے لیے ایک بل پیش کیا۔وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے آئین (129ویں ترمیم) بل، 2024 اور اس سے منسلک یونین ٹیریٹریز قانون (ترمیمی) بل، 2024 کو ایوان زیریں میں پیش کیا جائے گا جس میں ملک میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے بیک وقت انعقاد کی فراہمی ہوگی۔ جس کی اپوزیشن جماعتوں نے سخت مخالفت کی۔یہ بل ایوان میں ووٹوں کی تقسیم کے بعد پیش کیا گیا۔. بل پیش کیے جانے کے حق میں 269 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں 198 ووٹ پڑے۔اس کے بعد میگھوال نے ندائی ووٹ کے ذریعے ایوان کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد Union Territory Law(ترمیمی) بل 2024 بھی متعارف کرایا۔