دونوں تلگو ریاستوں میں برسر اقتدار جماعتیں حکومتوں کو برقرار رکھنے کوشاں

   

تلگو دیشم سے بی جے پی کے عدم اتحاد کے اشارہ پر بی آر ایس کو راحت ، جگن کے وزیراعظم سے خوشگوار تعلقات
حیدرآباد۔4۔جنوری(سیاست نیوز) دونوں تلگو ریاستوں میں برسراقتدار جماعتیں اپنی حکومتوں کو برقرار رکھنے کے لئے منصوبہ بندی کر رہی ہیں اور کسی بھی طرح سے بھارتیہ جنتاپارٹی اور تلگودیشم کے درمیان اتحاد کو روکنے کے لئے کوشاں ہیں ‘ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے تلگودیشم پارٹی کے ساتھ کسی بھی طرح کے اتحاد سے انکار کرتے ہوئے دونوں ریاستوں میں مخالف حکومت ووٹ کی تقسیم کی راہیں ہموار کرنی شروع کردی ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں بی جے پی اور تلگودیشم کے درمیان اتحاد کی قیاس آرائیوں پر بی جے پی نے واضح کیا کہ وہ تلگو دیشم پارٹی کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کرے گی ۔ بی جے پی کے اس اعلان کے بعد بھارت راشٹر سمیتی نے راحت کی سانس لینی شروع کردی ہے لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بی جے پی تلنگانہ میں بھارت راشٹر سمیتی کی مددگار ثابت ہونے کی کوشش کر رہی ہے اور پڑوسی ریاست آندھراپردیش میں برسراقتدار وائی ایس آر سی پی مرکزی حکومت کی جانب سے آندھراپردیش کو خصوصی موقف نہ دیئے جانے کے باوجودتعلقات بہتر بنائے رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے علاوہ ازیں چیف منسٹر آندھرا پردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں لیکن وزیر اعظم نریندر مودی سے بہتر تعلقات استوار کئے ہوئے ہیں جو کہ ان کی سیاسی حکمت عملی اور دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھاجا رہاہے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کو بھارت راشٹر سمیتی میں تبدیل کرنے کے بعد چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کی زبان و بیان میں آئی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ خود کے چندر شیکھر راؤ بھی مرکزی حکومت سے بہتر تعلقات استوار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور وہ کسی بھی طرح کی رنجش کے ذریعہ سیاسی خمیازہ بھگتنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے انتخابات کے سال میں کسی بھی طرح کی مشکل صورتحال کا سامنا کرنے کے بجائے حکمت عملی کو تبدیل کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں تلگو ریاستوں میں تنہاء مقابلہ کرتی ہے تو ایسی صورت میں مخالف حکومت ووٹ منقسم ہونے کا قوی امکان ہے اور دونوں ہی حکومتوں کی جانب سے بی جے پی کو تنہاء مقابلہ کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔م