دونوں شہروں میں انتہائی شدید بارش۔ کئی سڑکیں تالابوں میں تبدیل

   

نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہوگیا ۔ شہر کے 17 سرکلس میں 120 ملی میٹر اور 11 سرکلوں میں 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی

حیدرآباد 18 ستمبر (سیاست نیوز) بارش کے دوران سڑکوں کے جھیل میں تبدیل ہونے کی بات معمول کی بات بن چکی ہے اور گذشتہ دو یوم سے ہونے والی بارشوں کے دوران حیدرآباد کی سڑکیں جھیل کا نہیں بلکہ تالابوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں آج سہ پہر بارش نے کئی علاقوں کو تالاب میں تبدیل کردیا جس سے کئی گاڑیاں ان میں پھنس گئیں اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حیدرآباد و سکندرآباد کے بیشتر علاقوں میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ سہ پہر سے جاری رہا جس کے نتیجہ میں کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی شکایات ملنے کے علاوہ نشیبی علاقوں میں تجارتی اداروں اور مکانات میں پانی داخل ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ گذشتہ دو یوم سے رات کے اوقات میں بارشوں کا اثر پرانے شہر پر نہیں دیکھا جارہا تھا لیکن آج سہ پہر سے بارش پرانے شہر کے علاقوں میں بھی ریکارڈ کی گئی لیکن سب سے زیادہ بارش مشیر آباد میں ریکارڈ کی گئی جہاں گذشتہ 24گھنٹوں میں 184 ملی میٹر بارش ہوئی ۔ بلدیہ سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق دونوں شہروں کے 17سرکلس میں 120 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ 11 سرکلوں میں 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی اسی طرح 4سرکلوں میں 90 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ۔مشیر آباد ‘ سکندرآباد ‘ شیرلنگم پلی ‘ ماریڈپلی ‘ بنسی لعل پیٹ‘ میاں پور ‘ پاٹی گڈہ ‘ حمایت نگر ‘ کنٹونمنٹ سکندرآباد‘ خیریت آباد‘ گچی باؤلی ‘ بالا نگر ‘ امیر پیٹ‘ شیخ پیٹ‘ میں 120 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی ۔ کئی علاقوں میں شدید موسلادھار بارش کے نتیجہ میں عوام گھروں میں محروس ہوچکے تھے ۔ پرانے شہر دبیر پورہ دروازہ کے علاوہ دیگر نشیبی محلہ جات میں پانی جمع ہونے سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ فلک نما ‘ چندرائن گٹہ ‘ مغلپورہ ‘ تالاب کٹہ ‘ یاقوت پورہ ‘ کالا پتھر ‘ حافظ بابانگر ‘ جہاں نما‘ مصری گنج و دیگر کئی محلہ جات میں جہاں پانی جمع ہونے کی شکایات عام ہیں ان میں موسلادھار بارش سے صورتحال انتہائی ابتر ہوگئی ۔ محکمہ موسمیات کی پیش قیاسی پر حکومت نے شہر و تلنگانہ کے بیشتر اضلاع کیلئے زرد الرٹ جاری کرکے ’حیدرا‘ مجلس بلدیہ حیدرآباد و دیگر متعلقہ محکمہ جات کو چوکس رہنے اور مخدوش عمارتوں کے تخلیہ کو یقینی بنانے اقدامات کی ہدایت دی ۔ دونوں شہروں کے کئی علاقوں میں جہاں موسلادھار بارش کے نتیجہ میں پانی کے سڑکوں اور نالوں میں تیز بہاؤ کے سبب عوام میں خوف ہے کیونکہ دو یوم میں نالوں میں بہنے سے اموات نے شہریوں میں سنسنی پیدا کردی ۔تلنگانہ ڈیولپمنٹ پلاننگ سوسائیٹی نے جو تفصیلات جاری کی ہیں ان کے مطابق بیگم پیٹ ‘ مشیرآباد ‘ سکندرآباد‘ اور خیریت آباد میں انتہائی موسلادھار بارش ہوئی جبکہ شیر لنگم پلی ‘ جوبلی ہلز‘ چندانگر‘ پٹن چیرو‘قطب اللہ پور‘ موسیٰ پیٹ‘ یوسف گوڑہ ‘ کاروان اور مہدی پٹنم میں موسلادھار بارش ہوئی ۔اسی طرح رجندر نگر ‘ ملک پیٹ ‘ فلک نما‘ ملکا جگری ‘ کوکٹ پلی ‘ عنبر پیٹ میں موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ دیگر علاقوں میں معمول کے مطابق بارش ریکارڈ کی گئی ۔ دونوں شہروں میں موسلادھار بارش سے کئی گھنٹوں تک اہم سڑکوں پر ٹریفک جام رہی اور عوام کو گھروں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مختلف مقامات پر ٹریفک پولیس و ’حیدرا‘ عملہ کو پانی کی نکاسی کرتے دیکھا گیا۔3