دوکانات کھولنے کی اجازت کے باوجود کاروبار ٹھپ

   

Ferty9 Clinic

l کرایہ ادا کرنے سے قاصر تاجرین دوکانات بند کرنے پر مجبور
l دونوں شہروں کے تجارتی مراکز میں گاہکوں کی کمی سے معاشی بحران
حیدرآباد۔9جون(سیاست نیوز) لاک ڈاؤن میں دی جانے والی رعایت کے بعد تجارتی بازاروں میں موجود دکانات بند کی جانے لگی ہیں اور تاجرین جو کہ کرایہ کی دکانات میں کاروبار کرتے تھے وہ اپنے کاروبار کو بند کرنے لگے ہیں ۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے کئی مرکزی تجارتی بازاروں کی حالت انتہائی ابتر ہوچکی اور تاجرین کی جانب سے دکانات کو بند کرنے کا فیصلہ بازاروں کی رونق کو ختم کرنے کے علاوہ بازاروں کی صورتحال کی عکاسی کررہا ہے۔ حیدرآباد میں متوسط تجارتی اداروں کو معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ان مسائل کے حل کے لئے ان کی کوششیں ناکام ثابت ہونے لگی ہیں جس کے سبب وہ کرایہ کی دکانات کو خالی کرنے لگے ہیں اور ان کا کہناہے کہ جب بازارکی حالت دیکھتے ہوئے کرایہ بھی نکلنے کی صورت نظر نہیں آرہی ہے تو بغیر کمائی کے کرایہ کی ادائیگی ممکن ہے اسی لئے وہ اپنے تجارتی اداروں کو بند کرنے پر مجبور ہونے لگے ہیں ۔ کورونا وائرس کی وباء کے سبب ملک بھر میں جاری رہنے والے 75 یوم کے لاک ڈاؤن کے دوران متوسط تجارتی اداروں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور لاک ڈاؤن کے بعد بازاروں میں گاہک نہ ہونے کے سبب معاشی بحران کی صورتحال سے بچنے کیلئے تجارتی اداروں کو ہی بند کررہے ہیں ۔ پرانے شہر کے علاوہ نئے شہر کے تجارتی کامپلکس میں بھی گاہک نہ ہونے اور بھاری کرایوں کے سبب دکانات خالی کی جانے لگی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ آئندہ 6تا8 ماہ کے دوران بازار میں سدھار کی کوئی گنجائش نہ ہونے کے سبب جیب سے کرایہ کی ادائیگی کوئی عقل مندی نہیں ہے ۔ صورتحال معمول پر آنے کے بعد دوبارہ تجارتی ادارو ںکی کشادگی کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ بازار میں لین دین کی ابتر صورتحال میں بہتری کے بعد ہی ممکن ہے کہ حالات معمول پر آنے لگیں لیکن لین دین اور معاملتوں کے التواء کے سبب بڑے تاجرین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ لاک ڈاؤن میں دکانات کو کھولنے کی رعایت دیئے جانے کے بعد اب تاجرین کا کہناہے کہ لاک ڈاؤن میں کم از کم کوئی بقایاجات کا مطالبہ نہیں کررہا تھا لیکن اب جبکہ لاک ڈاؤن میں رعایت کے ساتھ ہی دکانات کی کشادگی عمل میں لائی جاچکی ہے تو ایسی صورت میں ٹھوک تاجرین ریٹیل تاجرین سے بقایاجات کی وصولی کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ بازاروں میں گاہک نہ ہونے کے باعث ریٹیل تاجرین بھی معاشی مشکلات کا شکار بنے ہوئے ہیں اور ان کا کہناہے کہ لاک ڈاؤن میں دی جانے والی رعایت سے کوئی تجارتی فائدہ تو نہیں ہوا بلکہ صحت عامہ کے اعتبار سے شہر کو سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔