ریاست کی تمام بلدیات میں بچوںکی شرط ختم ، صرف حیدرآباد میں یہ شرط برقرار، اکثریتی ووٹوں کو بچانے حکومت نے تجویز واپس لے لی
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے لئے سیاسی جماعتوں کی جانب سے امیدواروں کی فہرست کی اجرائی کا سلسلہ جاری ہے اور 20 نومبر پرچہ نامزدگی کی آخری تاریخ ہے۔ گریٹر انتخابات میں حصہ لینے کیلئے اس مرتبہ سینکڑوں ایسے خواہشمند امیدوار سیاسی جماعتوں کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے تھے، جن کے دو سے زائد بچے ہیں، انہیں امید تھی کہ حکومت جی ایچ ایم سی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے دو بچوں کی شرط کو ختم کردے گی لیکن انتخابی اعلامیہ کی اجرائی نے ایسے ہزاروں خواہشمندوں کے خواب چکنا چور کردیئے ہیں۔ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی سے قبل حکومت نے گزشتہ ماہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے جی ایچ ایم سی ایکٹ میں اہم ترمیمات کی ہیں۔ ان ترمیمات میں دو سے زائد بچوں کی صورت میں مقابلہ سے نااہل قرار دینے کا مسئلہ بھی شامل تھا لیکن حکومت نے لمحہ آخر میں اس ترمیم سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے کئی سیاسی قائدین اس امید میں تھے کہ دو بچوں کی شرط ختم ہوجائے گی اور وہ بلدی انتخابات میں حصہ لے سکیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ کے سی آر حکومت نے کئی ترمیمات کے ساتھ دو بچوں کی شرط کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن بی جے پی کی جانب سے حکومت کے خلاف مہم کے آغاز نے حکومت کو اس ترمیم کو واپس لینے کے لئے مجبور کردیا ۔ بی جے پی نے الزام عائد کیا تھا کہ مجلس کو فائدہ پہنچانے کیلئے یہ ترمیم کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ میونسپلٹیز ایکٹ 2019 اور پنچایت راج ایکٹ 2018 میں ترمیمات کرتے ہوئے اس شرط کو پہلے ہی ختم کیا جاچکا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میں چار کارپوریٹرس کو منتخب ہونے کے بعد دو سے زائد بچے ہونے پر نااہل قرار دیا جاچکا ہے۔ جی ایچ ایم سی ایکٹ 2009 کی دفعہ 21B کے تحت دو سے زائد بچوں کی صورت میں مقابلہ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ جی ایچ ایم سی ایکٹ 1955 میں یہ شرط شامل کی گئی تھی جسے ابھی تک برقرار رکھا گیا ہے ۔ اسی دوران یہ معاملہ تلنگانہ ہائی کورٹ تک پہنچ گیا جہاں جی ایچ ایم سی ایکٹ کی دفعہ 21B کو چیلنج کیا گیا ۔ ہائی کورٹ نے اس سلسلہ میں حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے۔ درخواست گزاروں کو کہنا ہے کہ جب میونسپلٹیز ایکٹ اور پنچایت راج ایکٹ میں یہ شرط ختم کردی گئی تو پھر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں اس شرط کو برقرار رکھنا کہاں تک درست ہے ۔ ریاست کی تمام دیگر کارپوریشنوں اور بلدیات میں دو سے زائد بچوں کی کوئی شرط نہیں ہے لیکن بی جے پی کی مہم کے خوف سے ٹی آر ایس حکومت نے لمحہ آخر میں اپنا فیصلہ واپس لے لیا ۔ اگر یہ ترمیم کی جاتی تو جاریہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے پاس درخواست گزاروں کا زبردست ہجوم ہوتا اور آزاد امیدواروں کی بھی بڑی تعداد میدان میں ہوتی۔ دو بچوں کی شرط نے کئی سینئر قائدین کو مایوس کردیا جو انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے تھے۔