ماضی میں پراجکٹس کے پلرس اور بیاریجس نہیں بہہ گئے ، حکومت سے ہریش راؤ کا استفسار
حیدرآباد ۔ 14 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے رکن اسمبلی ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس پارٹی دو تین ایم پی نشستوں کے لیے کیچڑ اچھالنے کی سیاست پر اتر آئی ہے ۔ کالیشورم پراجکٹ کا حصہ ہونے والے میڈی گڈہ بیاریج کے خلاف گمراہ کن پروپگنڈہ کررہی ہے ۔ آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ تین بیاریجس 15 ذخیرہ آب ، 19 سب اسٹیشنس ، 21 پمپ ہاوزسس ، 23 کلومیٹر ٹنلس ، 1531 کلومیٹر گراویٹی کنالس 98 کلو میٹر پریجرس مینس ، 141 ٹی ایم سی پانی کے گنجائش والے ذخیرہ آب پر مشتمل ہے ۔ ان سب کو متحد کرنے والا کالیشورم پراجکٹ ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ارکان اسمبلی کو میڈی گڈہ بیاریج کا معائنہ کرایا ۔ راستے میں پڑنے والے ملنا ساگر، کونڈا پوچماں ساگر بھی بتایا جاتا تو اچھا ہوتا ۔ صرف بی آر ایس حکومت پر کیچڑ اچھالنے کی سیاست کی جارہی ہے ۔ ریاست تلنگانہ کے لیے کالیشورم پراجکٹ بہت بڑا اثاثہ ہے ۔ اس پراجکٹ کی وجہ سے زرعی شعبہ ترقی کی سمت گامزن ہے ۔ ملک میں پنجاب کے بعد تلنگانہ کو دوسرا غذائی اجناس پیدا کرنے والی ریاست کا اعزاز حاصل ہوا ہے ۔ ہر طرف لہراتے ہوئے ہرے بھرے کھیت نظر آرہے ہیں ۔ ہریش راؤ نے چیف منسٹر اور کانگریس حکومت نے کالیشورم پراجکٹ تعمیر کر کے غلطی کرنے جیسا بی آر ایس حکومت کے خلاف ماحول تیار کیا جارہا ہے ۔ چند پلرس زمین میں گھس گئے ہیں جس پر سارے پراجکٹ کو نقصان پہونچنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے ۔ جس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں ۔ اس واقعہ کی تحقیقات کرانے اور قصور واروں کے خلاف کارروائی کرنے کا ہم بھی مطالبہ کررہے ہیں ۔ ساتھ ہی پراجکٹ کو درست کرنے کے اقدامات کا بھی حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں لیکن حکومت اس جانب توجہ دینے کے بجائے اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے ۔ کیا ایسے واقعات ماضی میں پیش نہیں آئے حکومت سے استفسار کیا ۔ متحدہ آندھرا پردیش میں 1958 کے دوران کڈم پراجکٹ کا کٹہ گیٹس کے ساتھ بہہ گیا ۔ جس کو بعد میں درست کیا گیا ۔ دوبارہ 1995 میں پورا کٹہ ٹوٹ گیا ۔ 1981 اور 1999 کے دوران سنگور ڈیم کا کچھ حصہ بہہ گیا ۔ 2010 میں ایلم پلی بیاریج اسپیل وے بہہ گیا ۔ 2004 میں ستنالہ پراجکٹ کا ہیڈ ریگولیٹر بہہ گیا ۔ پلی چنتلا پراجکٹ کے گیٹس بہہ گئے ۔۔ 2