دو سعودی خواتین تاریخ رقم کرنے کیلئے پرعزم

   

ریاض ۔ دو سعودی خواتین ملک کی پہلی خاتون ایتھلیٹ کے طور پر تاریخ رقم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں جیسا کہ وہ شیروز نامی ایک ٹیم کا حصہ ہیں جو سالانہ ڈاکار ریلی میں شرکت کرے گی۔مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شریک کپتان دانیاعقیل اور مشاعل العبیدان نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ ملک کی ترقی کی علامت بنیں گی اور سعودی عرب میں خواتین کو اپنے شوق کی تکمیل اور خوابوں کو پورا کرنے کے لئے عملی کوشش کی جانب راغب کریں گی۔یہ دونوں خواتین چھ مہینے کے تربیتی منصوبے کے بعد 2022 میں اس خاص ریس میں شرکت کریں گی۔دانیا عقیل نے جو شیروز منصوبے کی منیجربھی ہیں انہوں نے کہا ہیکہ جہاں تک مجھے یاد ہے، شروع ہی سے مجھے ڈرائیونگ کا شوق رہا ہے۔8 برس کی عمر میں اپنی کواڈ بائیک پہلی مرتبہ چلائی تھی اور 14سال کی عمر میں پہلی مرتبہ 150 سی سی کی ڈرٹ بائیک صحرا میں چلائی تھی۔انہوں نے کہا مجھے یقین ہے کہ دنیا بھر میں سب سے مشکل صحرائی چمپئن شپس کے مقابلے میں حصہ لینا میرے لئے محض فطری بات ہے۔ یہ ہمارے گھر کے عقبی ریتلے گراونڈ میں بھی ہوتی ہے۔دانیا عقیل نے اپنے پہلے ریسنگ سیزن میں ڈوکیٹی کپ کے لئے متحدہ عرب امارات کی نیشنل اسپورٹ بائیک سوپر سیریز 20-2019 سیزن میں روکی آف دا ایر ایوارڈ حاصل کیا تھا۔دوسری ڈرائیور اور پراجیکٹ منیجر مشاعل العبیدان نے کہا کہ وہ بھی کم عمری سے ہی اسپورٹس اور آؤٹ ڈورکھیلوں میں شرکت کرتی رہی ہیں۔انہیں بگھیاں، ڈیزرٹ بائیکس اور موٹرسائیکل چلانے کا تجربہ ہے۔ اس کے علاوہ وہ ڈائیونگ انسٹرکٹرزکی پیشہ وراسوسی ایشن کی مصدقہ ایڈوانسڈ سکوبا اور فری ڈائیور بھی ہیں۔ مشاعل کے مطابق میں ڈاکار کا حصہ بننے پر بہت پرجوش ہوں۔ ڈاکار ایک خواب ہے جو حقیقت بن جائے گا۔مشاعل کے پاس موٹرسائیکل چلانے کا امریکی لائسنس بھی ہے۔ انہوں نے کیلیفورنیا سے نیوی گیشن اورسیفٹی کی تربیت بھی لے رکھی ہے۔علاوہ ازیں پراجیکٹ ڈائریکٹر اور رائیڈرآئیول ڈی سائمن نے پانچ ممالک میں مختلف اسپورٹس ٹیموں کے ساتھ تربیت بھی حاصل کی ہے۔انہوں نے مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیا اور ایسے مقابلوں کو آرگنائز بھی کیا ہے۔ڈی سائمن نے سب سے پہلے دانیا اور مشاعل سے رابطہ کیا۔ اب وہ اپنی ٹیم میں دو مزید ارکان کا اضافہ کرنے پر غور کر رہی ہیں تاکہ ڈاکار ریلی میں شرکت کے لیے درکار چار ارکان کی تعداد پوری ہو جائے۔ڈی سائمن نے کہا کہ دو ایسی سعودی خواتین ہیں جو معاون پائلٹ کی حیثیت سے ہمارے ساتھ شامل ہو سکتی ہیں۔