اقلیتوں و کمزور طبقات سے وعدوں کی تکمیل ، موسیٰ ندی کی ترقی ، چارمینار اور حسین ساگر سیاحتی مراکز ، ذات پات کی مردم شماری
انٹرنیٹ بنیادی حق، 100 ایکر پر مصنوعی ذہانت سٹی کا قیام، اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے گورنر ڈاکٹر سوندراراجن کا خطاب
حیدرآباد ۔ 8 ۔ فروری(سیاست نیوز) گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے اعلان کیا کہ تلنگانہ حکومت دو لاکھ روزگار فراہم کرنے کے عہد کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دو ضمانتوں پر عمل آوری کا عنقریب آغاز ہوگا جس کے تحت مستحق خاندانوں کو 500 روپئے میں گیس سلینڈر اور ماہانہ 200 یونٹ برقی مفت سربراہ کی جائے گی۔ بجٹ سیشن کے آغاز پر گورنر نے اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی کئی پالیسیوں اور اسکیمات کا حوالہ دیا۔ گورنر نے کہا کہ حکومت اقلیتوں اور کمزور طبقات سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کرے گی۔ ذات پات پر مبنی مردم شماری ، موسیٰ ندی کی ترقی ، چارمینار اور حسین ساگر کو سیاحتی مراکز کے طور پر ترقی دینے ، انٹرنیٹ کو عوام کیلئے بنیادی حق کے طور پر متعارف کرانے اور مصنوعی ذہانت سٹی 100 ایکر پر قائم کرنے کا اعلان کیا۔ گورنر نے حکومت کی صنعتی ، زرعی اور نوجوانوں میں اسکل ڈیولپمنٹ سے متعلق پالیسی پر عمل آوری کا تیقن دیا ۔ گورنر نے حالیہ اسمبلی چناؤ میں عوام کے فیصلہ کو تاریخی نوعیت کا قرار دیا اور کہا کہ عوام نے جس اعتماد اور بھروسہ کا اظہار کیا ہے ، وہ قابل قدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کا وجود 4 کروڑ عوام کی خواہشات ، نوجوانوں کی قربانیوں اور طلبہ کی انتھک جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ گورنر نے کہا کہ 6 ضمانتوں کو حقیقت کا رنگ دینے کیلئے حکومت پابند عہد ہے۔ دو ضمانتوں پر عمل آوری شروع ہوچکی ہے جس سے حکومت کے اخلاص کا اظہار ہوتا ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ مہا لکشمی اسکیم کے تحت آر ٹی سی بسوں میں تاحال 15 کروڑ سے زائد خواتین نے سفر کیا۔ پرجا پالنا کی ستائش کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ جملہ 1.28 کروڑ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ تمام 6 ضمانتوں پر مقررہ وقت میں عمل آوری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 500 روپئے میں گیس سلینڈر اور 200 یونٹ مفت برقی سربراہی پر مستحق خاندانوں کیلئے عنقریب عمل آوری شروع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقلیتوں ، کمزور طبقات ا یس سی ، ایس ٹی ، کسانوں اور نوجوانوں سے کئے گئے وعدوں پر عمل آوری کی پابند ہے۔ پالمور رنگا ریڈی پراجکٹ کی تعمیر کے علاوہ نوتشکیل شدہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ دو لاکھ ملازمتیں پر کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد نہ صرف دارالحکومت ہے بلکہ ریاست کی ترقی اور بہبود کیلئے آمدنی کا ذریعہ ہے ۔ حکومت حیدرآباد کے عہد رفتا کی بحالی اور ترقی کے اقدامات کرے گی۔ گورنر نے کسانوں کیلئے اعلان کردہ وعدوں پر عمل آوری کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نئی صنعتی پالیسی مدون کرے گی تاکہ ریاست کو مثالی بنایا جائے اور نئے اور موجودہ سرمایہ کاروں کو معیاری انفراسٹرکچر فراہم کرتے ہوئے صنعتی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی عدم توازن کو ختم کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور متوسط صنعتوں کے قیام کے لئے ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی ، اقلیت اور خواتین کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انفارمیشن ٹکنالوجی شعبہ کی ترقی کیلئے حکومت ایک ہزار تا تین ہزار ایکر پر 10 تا 12 فارما ویلیج کلسٹرس کے قیام کی تجویز رکھتی ہے۔ گورنر نے کہا کہ نئی حکومت کے قیام کو صرف چند ہفتے ہوئے لیکن ڈاؤِس میں عالمی معاشی فورم کے اجلاس میں تلنگانہ میں 40 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری سے عالمی اداروں نے اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹکنالوجی سے عوام کو ہم آہنگ کرنے کیلئے انٹرنیٹ کو بنیادی حق کے طور پر متعارف کیا جائے گا ۔ گورنر نے مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کئی سرکردہ عالمی اور قومی ٹکنالوجی کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت کے مراکز قائم کرنے کیلئے مدعو کرتے ہوئے حیدرآباد کو ملک کا مصنوعی ذہانت دارالحکومت بنایا جائے گا ۔ 50 سے 100 ایکر پر خصوصی مصنوعی ذہانت سٹی قائم کی جائے گی۔ گورنر نے ووکیشنل تعلیم کو فروغ دینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے تمام سرکاری آئی ٹی آئیز کو 2000 کروڑ کے پراجکٹس سے عصری ٹکنالوجی مراکز میں تبدیل کیا جائے گا ۔ گورنر نے تلنگانہ کی تاریخی یادگاروں اور عمارتوں کو سیاحتی مراکز کے طور پر ترقی دینے کا اعلان کیا جن میں تاریخی چارمینار ، ورنگل کا ہزار ستون مندر اور رامپا مندر شامل ہیں۔ انہوں نے ذخائر آب کو خوبصورت بناتے ہوئے سیاحوں کیلئے تفریحی مراکز کے قیام کا اعلان کیا جس میں حسین ساگر شامل رہے گا۔ گورنر نے موسیٰ ندی کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موسیٰ ندی کے اطراف موجود تمام علاقوں کو از سر نو سرسبز بنایا جائے گا۔ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کیلئے موسی ریور فرم پراجکٹ کی تجویز ہے جس کے تحت پیوپلز پلازا ، چہل قدمی زون ، ہاکر ایریا اور گرین اسپیس کی گنجائش رہیگی۔ حیدرآباد کی روایتی و قدیم تہذیب و ثقافت کو بحال کیا جائے گا۔ گورنر نے کہاکہ کمزور طبقات کو سماجی ، تعلیمی ، معاشی ، روزگار اور سیاسی سطح پر مواقع فراہم کرنے کیلئے گھر گھر سروے کے ذریعہ مردم شماری کی جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بجٹ کے ذریعہ حکومت تمام وعدوں پر عمل آوری کیلئے اقدامات کرے گی تاکہ تلنگانہ ترقی اور خوشحالی کی نئی بلندیوں تک پہنچ سکے۔ 1