دو ہزار روپئے کی نوٹ کی تنسیخ سے معاشی بحران کے اندیشے

   

آر بی آئی کا تازہ فیصلہ ‘2016 کا فیصلہ غلط ہونے کا ثبوت: محمد علی شبیر

حیدرآباد۔/20 مئی، ( سیاست نیوز) کانگریس قائد و سابق وزیر محمد علی شبیر نے اچانک 2 ہزار روپئے کی نوٹ کو منسوخ کرنے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت اور آر بی آئی کا یہ تازہ فیصلہ ملک میں معاشی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ محمد علی شبیر نے آج ایک بیان میں اس فیصلہ کو دوسری نوٹ بندی قرار دیا اور کہا کہ مرکزی حکومت 2 ہزار روپئے کی نوٹ سے دستبرداری اختیار کرکے ماضی کی نوٹ بندی کی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ماضی میں کی گئی نوٹ بندی کی بی جے پی قائدین نے مکمل تائید کرتے ہوئے اس کو کالے دھن پر سرجیکل اسٹرائیک قرار دیا تھا تاہم اب 2000 روپئے کے نوٹ کو منسوخ کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ 2016 میں نوٹ بندی کا جو فیصلہ کیا گیا تھا وہ غیر موثر اور غلط تھا ۔ کالا دھن کا دعویٰ کرکے 2016 میں نوٹ بندی کرنے کے بعد 99 فیصد سے زیادہ رقم بینکوں میں جمع ہوگئی ہے۔ تاہم اس کے اثرات ملک کے معاشی نظام پر منفی ثابت ہوئے۔ تقریباً 15 لاکھ افراد روزگار سے محروم ہوگئے، بڑے پیمانے پر صنعتوں کو نقصان پہنچا۔ جی ڈی پی کی شرح نمو 1.5 فیصد تک گھٹ گئی۔ نئی کرنسی کو مارکٹ میں متعارف کرنے آر بی آئی نے 13,000 کروڑ روپئے خرچ کئے۔ 100 سے زائد افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے۔ محمد علی شبیر نے 2 ہزار روپئے کی منسوخی میں شفافیت کا فقدان ہونے کا الزام عائد کیا اور تازہ اقدام کے پیچھے جو مقاصد ہیں ان کی وضاحت کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا۔ن