دھرانی پورٹل کے آغاز سے اراضی معاملات کی جانچ کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم

   

فارنسک آڈٹ میں 10 ہزار بے قاعدگیوں کی نشاندہی، حیدرآباد سے بنگلور و، چینائی اور تروپتی بلٹ ٹرین
مانسون کی ناکامی سے زرعی صورتحال باعث تشویش، پینے کے پانی اور برقی کی سربراہی اولین ترجیح، ریاستی کابینہ کے فیصلے
حیدرآباد ۔17 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے بی آر ایس دور حکومت میں اراضی معاملات کے لئے تیار کردہ دھرانی پورٹل کے تمام معاملات کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔ 29 اکتوبر 2020 سے دھرانی پورٹل پر عمل آوری کا آغاز کیا گیا تھا اور ریاستی کابینہ نے پورٹل میں بے قاعدگیوں کی شکایت پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی صدارت میں ریاستی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا ۔ کابینہ نے دھرانی پورٹل میں فارنسک آڈٹ کے تحت بے قاعدگیوں سے متعلق 10,000 معاملات کا جائزہ لیا۔ کابینہ نے دھرانی پورٹل کے آغاز سے آج تک کے اراضی ریکارڈ ، اراضیات کی خرید و فروخت اور دیگر معاملات کی جامع تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر مال پی سرینواس ریڈی نے ریاستی وزراء جوپلی کرشنا راؤ ، لکشمن کمار اور پونم پربھاکر کے ہمراہ میڈیا کو کابینہ کے فیصلوں سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ دھرانی پورٹل کے آغاز سے ریاست بھر میں اراضیات کے رجسٹریشن، ریکارڈ کی تبدیلی، زرعی اراضی ، اسائینڈ لینڈ اور سرکاری زمین کی تبدیلی سے متعلق شکایات کی جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ دھرانی پورٹل کی شکایات کی جانچ کیلئے کیرالا کے ایک ادارہ کے ذریعہ فارنسک آڈٹ کا اہتمام کیا گیا۔ پائلٹ پراجکٹ کے تحت میدک اور سدی پیٹ اضلاع میں اراضی معاملات کی جانچ کی گئی جس کے بعد تمام اضلاع میں اراضی ریکارڈ اور معاملات کا فارنسک آڈٹ کیا گیا۔ 10,000 سے زائد معاملات میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھرانی پورٹل کو چلانے والے انفراسٹرکچر لیزنگ اینڈ فینانس سرویسز لمٹیڈ کے رول کی بھی جانچ کی جائے گی۔ ادارہ کے انتخاب کے سلسلہ میں ٹنڈر کی طلبی، ٹنڈر الاٹمنٹ اور دیگر امور کا بھی خصوصی تحقیقاتی ٹیم جانچ کرے گی۔ بھوبھارتی پورٹل کے ذریعہ تلنگانہ حکومت نے اراضیات میں بے قاعدگیوں اور کسانوں کو راحت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پورٹل سے متعلق اپوزیشن کی الزام تراشی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے 2020 سے آج تک کے معاملات کی جانچ کا فیصلہ کیا ۔ تحقیقات میں جو بھی قصوروار پائے جائیں گے ، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر مال نے کہا کہ بے قاعدگیوں میں ملوث اور پس پردہ افراد کی شناخت کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم SET کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ نے سرکاری محکمہ جات کے کاموں کے ٹنڈرس میں یکسانیت پیدا کرنے کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عام طورپر ترقیاتی کاموں کے لئے حکومت کی جانب سے طئے شدہ تخمینہ مقام صورتحال کے مطابق تبدیل ہوجاتا ہے جس کے نتیجہ میں کاموں کی تکمیل میں تاخیر ہورہی ہے۔ تمام سرکاری محکمہ جات کے ٹنڈرس اور بلز کی اجرائی میں یکسانیت پیدا کرنے کیلئے اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا جو حکومت کو سفارشات پیش کرے گی۔ کابینہ نے ریاست کے تمام میونسپل کارپوریشنوں کے کوآپشن ممبرس کی تعداد کو 5 سے بڑھاکر 6 کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 5 ارکان پہلے سے موجود ہیں، چھٹواں کوآپشن ممبر ٹرانسجینڈر کمیونٹی سے رہے گا۔ اس سلسلہ میں 2019 کے قانون میں تبدیلی کی جائے گی۔ کابینہ نے گرام پنچایتوں کے فنڈس کو ٹریژری میں جمع کرنے کے بجائے قریبی نیشنلائیز یا کوآپریٹیو بینک یا پھر قریبی پوسٹ آفس میں جمع کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں پنچایت راج قانون 2018 میں ترمیم کی جائے گی۔ مرکزی حکومت نے حیدرآباد سے ممبئی ، بنگلور اور چینائی شہروں کے لئے تین ہائی اسپیڈ ریل راہداری کو منظوری دی ہے۔ تینوں راہداریوں کی تفصیلات اوراسٹیشنوں کے مقامات کے بارے میں آر اینڈ بی کے عہدیداروں نے کابینہ کو واقف کرایا۔ شمس آباد کے قریب ریل ہب قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حیدرآباد براہ پونے ممبئی ایک روٹ ، حیدرآباد تا بنگلور دوسری روٹ اور حیدرآباد براہ امراوتی تروپتی تیسری ہائی اسپیڈ ٹرین روٹ کو منظوری دی گئی ہے۔ تین بلٹ ٹرین کے منصوبہ سے انتہائی کم وقت میں طویل مسافت طئے کی جائے گی۔ کابینہ نے ریاستی وزیر لکشمن کمار کے انتخابی حلقہ دھرما پوری کے گورنمنٹ ڈگری کالج کے لئے 29 جائیدادوں کی منظوری دی ہے۔ کابینہ نے ملک بھر میں موسم تبدیلی اور مانسون کی ناکامی کی صورت میں ضلع کلکٹرس کو چوکسی کا مشورہ دیا ہے۔ مانسون کی ناکامی کے سبب کسانوں کو متبادل فصلوں کی رہنمائی کی جارہی ہے تاکہ نقصانات سے بچ سکیں۔ سرینواس ریڈی نے کہا کہ مانسون کی ناکامی پر متحدہ اضلاع کے انچارج وزراء اپنے اپنے علاقوں میں صورتحال کے بارے میں رپورٹ پیش کریں گے۔ رپورٹ کو مرکزی حکومت کے پاس روانہ کرتے ہوئے خشک سالی سے نمٹنے کیلئے امداد طلب کی جائے گی۔ کابینہ نے نامناسب اور کم بارش کے باوجود پینے کے پانی اور برقی کی بلا وقفہ سربراہی پر خصوصی توجہ کا فیصلہ کیا ہے۔ ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پانی کی سربراہی اور برقی کی بلا وقفہ سربراہی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔ تلنگانہ میں تقریباً 40 فیصد بارش کم ریکارڈ کی گئی ہے جس کے نتیجہ میں کسان مسائل کا شکار ہیں۔ کابینہ نے نائب صدرنشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ ڈاکٹر جی چنا ریڈی کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ زرعی سائنسدانوں اور ماہرین کے ساتھ اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے کسانوں کو متبادل فصلوں کی رہنمائی کریں۔1/k/k/b