مارچ کے پہلے ہفتہ تک ریاست کے تحصیلداروں سے مسائل کو حل کرنے ریونت ریڈی کی ہدایت
حیدرآباد ۔ 24 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے دھرانی میں زیر التوا 2.45 لاکھ درخواستوں کو مارچ کے پہلے ہفتہ میں تحصیلدار آفسوں میں حل کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ہے ۔ اس کے لیے درکار تمام انتظامات کرلینے کا مشورہ دیا ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج سکریٹریٹ میں دھرانی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ۔ دھرانی کمیٹی نے مسائل کی یکسوئی کے لیے چیف منسٹر کو عبوری رپورٹ پیش کی ہے ۔ تمام زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی کے لیے موثر اقدامات کرنے پر زور دیا ۔ دھرانی کمیٹی نے جو تجاویز پیش کی ہیں ۔ اس کی بنیاد پر مسائل کی یکسوئی کے لیے ضرورت کے مطابق قواعد تیار کرنے کی محکمہ مال کو ہدایت دی ۔ چیف منسٹر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بھر میں 2.45 لاکھ درخواستیں زیر التواء ہیں ۔ پہلے مرحلے میں فوری حل ہونے والی درخواستوں کو اہمیت دینے کا مشورہ دیا ہے ۔ کسانوں کو پریشان کرے بغیر ان کے مسائل کو حل کرنے کے احکامات جاری کیے ۔ اس اجلاس میں ریاستی وزیر مال پی سرینواس ریڈی ، چیف منسٹر کے مشیر ویم نریندر ریڈی ، دھرانی کمیٹی کے اراکین کودنڈا ریڈی ، ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار ریمنڈپیٹر ، ایڈوکیٹ سنیل ریٹائرڈ اسپیشل گریٹر کلکٹر بی مدھو سدن چیف سکریٹری شانتی کماری محکمہ مال کے پرنسپل سکریٹری نوین متل کے علاوہ دوسرے عہدیدار موجود تھے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف تین ماہ میں جامع سروے کیا گیا جس سے نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔ اس ریکارڈ کو حکومت کی جانب سے اہمیت دی گئی جس کی وجہ سے اراضی مسائل ، اراضی ریکارڈ کے تنازعات پیدا ہوگئے ۔ صرف ناموں کی غلطیوں کو درست کرانے کے لیے کلکٹرس سے رجوع ہونے کی نوبت آگئی ہے ۔ تقریبا 35 ماڈیولس کے ذریعہ دھرانی ڈاٹا میں موجود غلطیوں کو درست کرانے کی محکمہ مال نے سہولت فراہم کی ہے ۔ تاہم کونسے ماڈیول میں کونسی درخواست داخل کی جائے اس کا شعور نہ ہونے کی وجہ سے کسان پریشان ہیں ۔ تاحال لاکھوں درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں ایک غلطی کو درست کرانے کے لیے ہزاروں روپئے فیس ہے جو کسانوں پر اضافی مالی بوجھ میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ محکمہ جات رجسٹریشن اور مال میں تال میل میں فقدان کی وجہ سے ممنوعہ فہرست میں موجود اراضیات بھی فروخت کی جارہی ہیں ۔ دھرانی ڈاٹا کو بنیاد بناکر محکمہ زراعت نے رعیتو بندھو اسکیم پر عمل آوری کی ہے ۔ جس سے کروڑہا روپئے کا بیجا استعمال ہوا ہے ۔۔2