پٹنہ۔ 7 فروری (یو این آئی) بہار کے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپو یادو کو پولیس نے تین دہائی پرانے دھوکہ دہی، جعلسازی اور دھمکی دینے کے معاملے میں گرفتار کر لیا ہے ۔ پولیس ذرائع نے ہفتہ کو بتایا کہ پپو یادو کو دارالحکومت پٹنہ میں مندیری واقع ان کے رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے فوراً بعد انہیں طبی جانچ کے لیے اندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (آئی جی آئی ایم ایس) لے جایا گیا۔ذرائع کے مطابق پپو یادو نے سال 1995 میں پٹنہ کے گردنی باغ علاقے میں اپنی پارٹی کی سرگرمیاں چلانے کے لیے مبینہ طور پر مالک کو دھوکے میں رکھ کر ایک مکان کرائے پر لیا تھا۔ شیلندر پرساد نامی شخص نے اپنے نام پر مکان کرائے پر لیا، لیکن بعد میں مالک کو معلوم ہوا کہ پپو یادو اسے پارٹی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ جب مکان مالک کی بار بار درخواست کے باوجود مکان خالی نہیں کیا گیا تو پپو یادو، شیلندر پرساد اور چندر نارائن کے خلاف گردنی باغ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ ایم پی-ایم ایل اے عدالت کی جانب سے جاری وارنٹ کی بنیاد پر پپو یادو کو جمعہ کی دیر رات گرفتار کیا گیا اور انہیں آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔اس دوران پپو یادو نے کہا کہ عوامی مفادات کے معاملے اٹھانے سے حکومت پریشان ہوگئی ہے ، اسی لیے انہیں بار بار ہراساں کیا جا رہا ہے ۔