اترکھنڈ کے ہری دوار میں نام نہاد مذہبی شخصیتوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میںملک میں نراج اور افرا تفری پیدا کرنے کی کھلے عام دھمکیاں دی گئیں۔ مسلمانوں کو قتل کرنے کی باتیں ہوئیںاور ہندووںسے کہا گیا کہ وہ ہتھیار اٹھالیں۔ میانمار میں جس طرح مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کی نسل کشی کی گئی اسی طرح ہندوستان میں بھی اقدامات کرنے کی باتیں کہی گئیں۔ یہ اجلاس ’ دھرم سنسد ‘ کے نام سے منعقد ہوا جبکہ یہ در اصل دہشت سنسد ہونا چاہئے ۔ یہاں ایک بھی بات مثبت یا تعمیری نہیں ہوئی بلکہ صرف قانون کی دھجیاں اڑانے اور ملک کا امن و امان متاثر کرنے اور نراج کی کیفیت پیدا کرنے کی تقاریر ہوئیں۔ مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف زہر افشانی ہوئی اور کھلے عام یہ سب کچھ ہوا ۔ یہ سنسد گذشتہ پیر سے جمعہ کے درمیان اترکھنڈ میں منعقد ہوئی ۔ اس کے انعقاد کو چار دن کا وقت ہوگیا ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ اترکھنڈ کی پولیس اور نفاذ قانون کی دوسری ایجنسیاں مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہیں۔ یہ ایجنسیاں خود اپنی لا پرواہی سے ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں بلکہ یہ کہا جاستکا ہے کہ ایسے دہشت پھیلانے والے عناصر کی پشت پناہی کی جا رہی ہے ۔ انہیں قانون کے شکنجوں سے بچانے کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے ۔ ملک میں دستور بچانے کیلئے جدوجہد کرنے والوں اور حکومت سے اختلاف کرنے والوں کو غداری کے الزام میں گرفتار کرکے جیل بھیج دینے اور کئی برس تک ضمانتوں سے محروم رکھنے والی ایجنسیاںاور پولیس کھلے عام ملک کے قانون کی دھجیاں اڑانے اور ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کے تعلق سے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ یہ نفاذ قانون کی ایجنسیوں اور خاص طور پر اترکھنڈ پولیس کی انتہائی مجرمانہ خاموشی ہے ۔ چار دن اس زہر افشانی کو ہوگئے ہیں لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس اجلاس پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ سارے ملک میں سوشیل میڈیا پر اس کے ویڈیوز وائرل ہوگئے ہیں بلکہ انہیں وائر ل کردیا گیا ہے اس کے باوجود پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی شکایات موصول نہیں ہوئی ہے اور وہ صرف صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے ۔
ایک مذہبی جنون پسند پاگل نے اس اجلاس کا انعقاد عمل میں لایا اور اس کی ہی قماش کے دوسرے نام نہاد مذہبی شخصیتوں نے اس میں شرکت کی ۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کی اور انہیں قتل کرنے کی دوسروں کو ترغیب تک دینے کی کوشش کی ۔ اجلاس کے بعد جب سوشیل میڈیا پر اس کے ویڈیوز وائرل ہوگئے تب بھی انہیں اپنی غلطی کا احساس نہیں ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا ہے اور وہ اپنے کئے و کہے پر قائم ہیں۔ پولیس کو اس معاملے میں کارروائی کرنے سے کیا شئے روک رہی ہے یہ ناقابل فہم ہے ۔ اس طرح کے اجلاس اور اس طرح کی زہر افشانی ہندوستان جیسے ہمہ جہتی ملک کیلئے اچھی علامت نہیں ہے ۔ مذہبی جنون پسندوں کو کیفر کردار تک پہونچاتے ہوئے ملک کے نظم و قانون کو برقرار رکھنا پولیس کا اولین فریضہ ہے ۔ نفاذ قانون کی ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے ۔ اس کے باوجود یہ لوگ اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل میں ناکام ہوجاتے ہیں ۔ انہیں پورا کرنے سے عمدا گریز کرتے ہیں۔ سیاسی اثر و رسوخ پر کے تحت کام کرتے ہیں اور ملک کے امن و امان کے ساتھ کھلواڑ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ملک میں بے شمار مثالیں ایسی ہیں جب محض حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے اور اس کی پالیسیوں سے اتفاق نہ کرنے پر کئی افراد کو جیل بھیج دیا گیا ہے اور ان پر غداری جیسے سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ کھلے عام عوام کو ہتھیار اٹھانے اور ملک کے ایک مخصوص طبقہ کی نسل کشی کی ترغیب دینے والوں کے تعلق سے چشم پوشی کی جارہی ہے ۔
اس سنسد کے ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سابق فوجی سربراہان ‘ سماجی جہد کاروں اور بین الاقوامی شخصیتوں نے تک تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اس سے ملک کی فضاء خراب ہوگی اور یکجہتی متاثر ہوگی ۔ ایسے عناصر کے خلاف کارر وائی کی جانی چاہئے لیکن شاباش ہے اترکھنڈ پولیس کو اس کے ناک کے نیچے قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے سے مجرمانہ غفلت عمدا برتی جا رہی ہے ۔ ریاست کے ذمہ داران پولیس کو خود بھی اس معاملہ میں جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے ۔ انہیں اپنے فرائض سے پہلو تہی کا جواب دینا ہوگا اور اس طرح کے جنون پسندوں کو قانونی شکنجہ کس کر کیفر کردار تک پہونچانا ہوگا ۔
