دہلی آرڈیننس بل کے خلاف بی آر ایس ارکان پارلیمنٹ کا مظاہرہ

   

Ferty9 Clinic

عوامی منتخب حکومت کو کمزور کرنے کا الزام، منی پور میں بحالی امن کا مطالبہ
حیدرآباد ۔4۔ اگست (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے دہلی آرڈیننس بل کی مخالفت کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے احاطہ میں مجسمہ گاندھی کے روبرو دھرنا منظم کیا۔ دہلی کی عوامی منتخب حکومت کے اختیارات سلب کرتے ہوئے مرکز نے آرڈیننس جاری کیا تھا جسے بل کی شکل میں لوک سبھا میں منظوری دی گئی۔ بی آر ایس نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دہلی آرڈیننس بل کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔ بی آر ایس ارکان پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے جس پر بل کی واپسی اور منی پور بچاؤ جیسے نعرے درج تھے ۔ منی پور کی صورتحال سے نمٹنے میں مرکز کی ناکامی پر بی آر ایس ارکان نے تنقید کی۔ لوک سبھا میں بی آر ایس قائد ناما ناگیشور را ؤ نے کہا کہ دہلی آرڈیننس بل جمہوری وفاقی نظام کیلئے خطرہ ہے ۔ اس مسئلہ پر پارلیمنٹ میں تفصیلی مباحث کی ضرورت ہے ۔ مرکزی حکومت نے غیر جمہوری اور غیر دستوری انداز میں بل پیش کیا ہے ۔ ناگیشور راؤ نے کہا کہ منتخب حکومتوں کے خلاف قانون سازی سے ملک میں وفاقی نظام کمزور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ڈھانچہ میں ریاستوں کو اختیارات حاصل ہے لیکن مرکزی حکومت ڈکٹیٹرشپ رویہ کے ذریعہ دہلی کی عام آدمی پارٹی حکومت کو کمزور کر رہی ہے۔ بی آر ایس ارکان پارلیمنٹ نے منی پور میں امن کی بحالی کیلئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ منی پور کی صورتحال قابو سے باہر ہوچکی ہے۔ راجیہ سبھا میں بی آر ایس قائد ڈاکٹر کے کیشو راؤ نے کہا کہ دہلی میں اعلیٰ عہدیداروں کے تبادلے اور تقررات کا اختیار لیفٹننٹ گورنر کو دیا گیا ہے ۔ مرکز کے اس فیصلہ سے عوامی منتخب حکومت کی کارکردگی متاثر ہوگی اور عہدیدار حکومت کے بجائے لیفٹننٹ گورنر کے احکامات پر عمل کریں گے ۔