دہلی اسمبلی میں این پی آر و این آر سی کیخلاف قرارداد منظور

,

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی ، 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی زیرقیادت دہلی اسمبلی میںنیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) اور نیشنل رجسٹرار آف سٹیزن (این آر سی) کیخلاف قرارداد کو منظور کرلیا گیا ہے ۔ اسمبلی میں مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس سارے عمل کو واپس لے کیونکہ اس کے تعلق سے معاشرے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا ہے ۔ دہلی اسمبلی کا ایک روزہ خصوصی سیشن منعقد کیا گیا اور این پی آر و این آر سی کیخلاف قرارداد منظور کرلی گئی ۔چیف منسٹر اروند کجریوال نے کہا کہ ان دو این پی آر اور این آر سی پر عمل آوری کے تحت شہریوں سے کہا جائے گا کہ وہ اپنی شہریت ثابت کریں ۔ جبکہ 90 فیصد عوام کے پاس این پی آر ، این آر سی کے تحت دستاویزات نہیں ہیں ۔ 90 فیصد عوام کے پاس اپنا سرکاری برتھ سرٹیفکیٹ بھی نہیں ہے آیا انہیں ڈیٹینشن سنٹر بھیج دیا جائے گا؟ یہ خوف ہر ایک کا تعاقب کررہا ہے ۔ کجریوال نے کہا کہ میری مرکز سے اپیل ہے کہ وہ این پی آر ، این آر سی کو روک دے ۔ دہلی اسمبلی میں 70 ارکان کے منجملہ صرف 9 ارکان کے پاس برتھ سرٹیفکیٹ ہے۔ /20 جون 2019 ء کو صدرجمہوریہ نے یہ واضح کردیا تھا کہ مرکزی حکومت این آر سی پر عمل آوری کرے گی ۔ وزیر داخلہ نے بھی پارلیمنٹ میں این آر سی پر عمل کرنے کا اعلان کیا تھا ۔