حیدرآباد۔/13 نومبر، ( سیاست نیوز) وزیر سیول سپلائیز جی کملاکر نے کہا کہ دہلی کے حکمرانوں کی جانب سے تلنگانہ کے خلاف جتنا زہر اُگلا جائے ریاست کی ترقی کو روک نہیں پائیں گے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کملاکر نے سوال کیا کہ تلنگانہ میں آندھرائی جماعتوں کی کیا ضرورت ہے۔ بعض قائدین پدیاترا کے ذریعہ تو بعض الزام تراشی کا سہارا لے کر حکومت پر تنقیدیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم اور علحدہ تلنگانہ کی تشکیل برداشت نہیں ہے۔ کملاکر نے کہا کہ بی جے پی کی تائید سے تلنگانہ ریاست تشکیل دی گئی تھی لیکن مرکزی حکومت تلنگانہ کے ساتھ مسلسل ناانصافی کررہی ہے۔ کملاکر نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ کے سی آر اور ٹی آر ایس کے خلاف بیان بازی سے گریز کریں اور تلنگانہ کی ترقی میں حصہ دار بنیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے تلنگانہ کے دورہ کے موقع پر ترقی کے بجائے صرف سیاسی تقریر پر اکتفاء کیا ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر سے کتہ گوڑم کے پروگرام میں شرکت کیلئے چیف منسٹر کو کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی تہذیب کا اس سے اظہار ہوتا ہے۔ وفاقی جمہوریت کے استحکام کا نعرہ لگانے والے نریندر مودی خود تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں۔ر