دہلی شراب اسکام ‘ایم ایل سی کویتا کی شیل کمپنی کو رقم منتقل کرنے سوکیش کا دعویٰ

   

کجریوال کے خلاف شکایتوں سے دستبرداری کیلئے دباؤ کا بھی انکشاف ۔ جیل سے مکتوب کی اجرائی

حیدرآباد 25 مئی ( سیاست نیوز ) منی لانڈرنگ مقدمہ میں دہلی کی جیل میں قید جعلساز سوکیش گپتا نے کل ( چہارشنبہ کو ) ایک اور مکتوب جاری کرتے ہوئے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال اور بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا اور دوسروں کے خلاف سنسنی خیز الزامات عائد کئے ہیں۔ سوکیش نے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کے گھر کی تعمیر کے تعلق سے بھی نئے الزامات عائد کئے ہیں۔ اس نے دعوی کیا کہ اس نے گھر میں فرنیچر کے انتظام کا خرچ برداشت کیا ہے ۔ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ان اخراجات کے بلز بھی موجود ہیں۔ سوکیش کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلہ میں ہونے والی چیاٹ کے اسکرین شارٹس بھی پیش کرنے کے موقف میں ہے جو حیدرآباد میں کے کویتا کے ڈسٹلنگ شیل اکاؤنٹس سے ’’ گرین ہسک ‘‘انڈسٹریز ماریشس کو مسٹر کیلاش گہلوٹ کے بزن کے اکاؤنٹ میں رقومات منتقل کئے جانے سے متعلق ہے ۔ سوکیش گپتا چیاٹ میں یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ رقومات ان ( کجریوال ) کی ہدایت پر منتقل کی گئی ہیں اور شائد انہیں یہ بھی یاد ہو کہ یہ رقومات 25 + 25 + 30 کروڑ روپئے کی تھیں۔ اس کا کہنا ہے کہ بعد میں ان رقومات کو امریکی بٹ کوائنٹس اور پھر کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرکے ابو ظہبی کو روانہ کردیا گیا تھا ۔ سوکیش کا کہنا تھا کہ خود جیل حکام نے ہی اسے مجبور کیا کہ ایک سے زائد مرتبہ اپنے گھروالوں کو فون کروں اور ان سے کہوں کہ جو شکایات میں نے کجریوال اور ستیندر جیل کے خلاف دائر کی ہیں ان سے دستبرداری اختیار کرلی جائے اور واپس لے لیا جائے ۔ اس کا کہنا تھا کہ جیل حکام کا یہ دعوی بھی حیرت انگیز ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ میں نے تین ماہ کے دورانیہ میں فون سے چھیڑ چھاڑ کی ہے اور اسے نقصان پہونچایا ہے ۔ سوکیش نے سوال کیا کہ جب یہ فون سی سی ٹی وی کیمروں والے کمرے میں ہے تو پھر اس سے چھیڑ چھاڑ کس طرح ممکن ہے وہ بھی اتنے طویل وقت تک ؟ ۔ کیا یہ قابل بھروسہ ہے ؟ ۔ اس نے مزید کہا کہ اسے ذہنی طور پر ہراساں کرنے اور دباؤ ڈالنے کیلئے اسے جیل میں دوسرے جگہ منتقل کیا گیا اور سپرنٹنڈنٹ مسٹر اوم پرکاش اس کے نگران ہیں جنہوں نے پہلے منیش سیسوڈیا کے ساتھ قریب رہ کر کام کیا تھا اور ان پر دباؤ ڈالا تھا کہ انہیں اور مسٹر ستیندر جیین کو جیل پروٹیکشن منی ادا کرنے کو کہا تھا ۔ ان سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سابق ڈی جی سندیپ گوئل کے خلاف بھی شکایت سے دستبرداری اختیار کی جائے ۔ سوکیش نے کہا کہ اس نے قومی حقوق انسانی کمیشن میں بھی شکایت درج کرواتے ہوئے جیل کے عہدیداروں کے رویہ کو آشکار کیا ہے ۔ اس نے مکتوب میں کجریوال سے کہا کہ انہیں ایک اور انکشاف کیلئے تیار رہنا چاہئے جس میں یہ واضح ہوجائیگا کہ وہ کتنے کٹر بدعنوان ہیں اور وہ کس حد تک گر سکتے ہیں۔