حیدرآباد۔11۔نومبر(سیاست نیوز) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کاروائی کا دائرۂ کار تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور گذشتہ یوم انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے عہدیداروں نے اربندو فارما کے ڈائریکٹر شرت چندرا ریڈی کو حراست میں لیتے ہوئے پوچھ تاچھ کا آغاز کردیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ شرت چندرا ریڈی کی گرفتاری کے بعد تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے مزید ملزمین کی گرفتاری کے امکانات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے شراب اسکام معاملہ میں اربندو فارما کے شرت چندرا رایڈی کے علاوہ ونئے کمار نامی دو افراد کو گرفتار کرتے ہوئے دہلی شراب اسکام معاملہ میں ہونے والی دھاندلیوں میں بڑی پیشرفت حاصل کی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ لائسنس کی اجرائی اور شراب کے متعلق پالیسی کی تیاری کے معاملہ میں کی جانے والی بدعنوانیوں میں مذکورہ افرا د کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت دستیاب ہونے کے بعد ہی یہ کاروائی کی گئی ہے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے دونوں گرفتار شدگان کو مزید پوچھ تاچھ کے لئے ریمانڈ حاصل کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ اب تک اس معاملہ میں جملہ 6 گرفتاریاں عمل میں لائی جاچکی ہے اور کئی افراد سے پوچھ تاچھ کی جاچکی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈپٹی چیف منسٹر دہلی منیش سسوڈیا کے قریبی مددگار دنیش اروڑہ نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ میں درخواست داخل کی ہے کہ وہ اس اسکام میں وعدہ معاف گواہ بننے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ انہیں خصوصی موقف فراہم کیا جائے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے عہدیدارو ںکے علاوہ سی بی آئی نے دہلی شراب معاملہ میں اب تک جملہ 6گرفتاریاں عمل میں لائی ہیں جن میں ستیش چندراریڈی ‘ ونئے کمار‘ سمیر مہیندو کے علاوہ سی بی آئی کی جانب سے گرفتار کئے گئے ابھیشیک بوئن پلی‘ وجئے نائر اور دنیش اروڑہ شامل ہیں ۔سی بی آئی کی جانب سے تیا رکی گئی ایف آئی آر میں ڈپٹی چیف منسٹر دہلی منیش سسوڈیا کو ملزم نمبر ایک بنایاگیا ہے اور مجرمانہ سازش کے مقدمات کا اندراج عمل میں لانے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے عہدیداروں نے ملک کی دیگر ریاستو ںمیں شراب اسکام معاملہ میں ملوث ملزمین تک رسائی حاصل کرنے کے لئے متعدد اقدامات کرنے شروع کردیئے ہیں اور کہاجا رہاہے کہ جلد ہی ریاست تلنگانہ سے شراب اسکام معاملہ میں کئی اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا اور اس معاملہ میں کئے گئے دھاؤوں کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہوئے کاروائی کی جائے گی۔ شراب اسکام معاملہ میں تلگو ریاستوں کے قائدین اور تاجرین کے ملوث ہونے کے متعلق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے عہدیداروں کی جانب سے کاروائی کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ ملک کی کئی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے قائدین ‘ عہدیدار اور تاجرین اس اسکام میں ملوث ہیں۔م